طیب
علی (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی، لاہور ،پاکستان)
اخلاص کی تعریف:کسی بھی نیک عمل میں محض
رضائے الٰہی حاصل کرنے کا ارادہ کرنا اخلاص کہلاتا ہے ۔
(1)حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے
کہا جب انہیں یمن کی طرف روانہ کیا جانے لگا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ہدایت ارشاد فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم
اپنے ذہن کو خالص کر لو تو عمل قلیل بھی تمہیں کفایت کرے گا۔(الترغیب والترہیب
٫جلد ٫1 صفحہ نمبر 31 ٫حدیث نمبر 4 ٫کتاب الایمان)
(2)حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل سے
فرمایا اخلاص کے ساتھ عمل کرو اخلاص کے ساتھ تھوڑا سا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(
کتاب فرض علوم سیکھئے باب منجیات (نجات دینے والی چیزوں) کا بیان)
(3)تاجدارِ مدینہ منورہ سلطان مکہ مکرمہ صلی اللہ تعالی
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :بروز قیامت کچھ مہر بند صحیفے اللہ عزوجل کی
بارگاہ میں پیش کیے جائیں گے تو اللہ عزوجل فرشتوں سے فرمائے گا یہ چھوڑ دو اور یہ
قبول کر لو فرشتے عرض کریں گے یارب عزوجل تیری عزت کی قسم ہم تو اس میں خیر ہی دیکھتے
ہیں اللہ عزوجل جو سب سے زیادہ جاننے والا ہے ارشاد فرمائے گا یہ اعمال میرے غیر
کے لیے کئے گئے تھے آج میں وہی عمل قبول کروں گا جو میری رضا کے لیے کیۓ گئے تھے۔( کتاب فیضان ریاض
الصالحین٫ جلد نمبر 1 ٫صفحہ نمبر٫28 باب اخلاص اور نیت کا بیان ٫مکتبۃ المدینہ)
(4)حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو شخص دنیا سے اس حالت میں رخصت ہوا وہ
اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے پر ایمان رکھتا ہو کہ اس کا کوئی شریک نہیں
ہے وہ نماز قائم کرتا ہو وہ زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور وہ دنیا سے الگ رہتا ہو اللہ
تعالیٰ اس سے راضی ہو جاتا ہے۔( الترغیب والترہیب ٫جلد ٫1 صفحہ نمبر ٫31 حدیث نمبر
٫2 کتاب الایمان ٫حدیث نمبر 5)
ابو فراس سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اخلاص ۔دوسری
روایت کے الفاظ یہ ہیں ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ جو
چاہو مجھ سے دریافت کر سکتے ہو ایک شخص نے بلند آواز سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم اسلا م سے کیا مراد ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز قائم
کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اس نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان
سے کیا مراد ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اخلاص اس نے عرض کیا یقین سے کیا
مراد ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تصدیق۔( الترغیب والترہیب ٫جلد ٫1 صفحہ
نمبر ٫31 حدیث نمبر ٫3 کتاب الایمان)
اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص
کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔
Dawateislami