حافظ
محمد اویس قرنی (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان ابو عطار ملیر ،کراچی،پاکستان)
اسلام کی بنیاد صرف ظاہری اعمال پر نہیں بلکہ نیت اور
باطنی کیفیت پر رکھی گئی ہے۔ بسا اوقات انسان بڑے بڑے اعمال انجام دیتا ہے، لیکن
اگر ان میں اخلاص نہ ہو تو وہ اللہ کے ہاں بے وزن ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے شریعتِ
اسلامیہ نے ہر عمل سے پہلے نیت کو درست کرنے کی تعلیم دی ہے۔ اخلاص وہ روح ہے جو
عبادت کو زندگی بخشتی ہے۔ بغیر اخلاص کے عبادت محض ایک رسم بن جاتی ہے، جبکہ اخلاص
کے ساتھ کیا گیا چھوٹا سا عمل بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا مقام پا لیتا ہے۔ نبی
کریم ﷺ نے اپنی احادیثِ مبارکہ میں اخلاص کی ایسی عظمت بیان فرمائی ہے جو ہر
مسلمان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
(1) اعمال کا دارومدار نیت پر ہے: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ،
حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ
إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ
بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ
وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا
يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ
إِلَيْه .
ترجمہ:امام مالک نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے محمد بن
ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ بن وقاص سے، انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا مدار نیت پر
ہی ہے، اور آدمی کے لیے وہی (اجر) ہے جس کی اس نے نیت کی۔ جس شخص کی ہجرت اللہ اور
اس کے رسول کی طرف تھی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس شخص کی
ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے تھی تو اس کی ہجرت اسی
چیز کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی تھی۔“ (صحيح مسلم،كتاب الامارة،حدیث: 4927)
(2) اللہ صرف خالص عمل قبول کرتا ہے:أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ هِلَالٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ
بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ،
قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ
رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الْأَجْرَ وَالذِّكْرَ، مَالَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُ فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ،
يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُ ثُمَّ
قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا،
وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ .ترجمہ:ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: آپ ایسے شخص کے بارے میں کیا
فرماتے ہیں جو جہاد کرتا ہے، اور جہاد کی اجرت و مزدوری چاہتا ہے، اور شہرت و
ناموری کا خواہشمند ہے، اسے کیا ملے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اس کے لیے کچھ نہیں ہے“ ۔ اس نے اپنی بات تین مرتبہ دہرائی۔ اور رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم اس سے یہی فرماتے رہے کہ اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔ پھر آپ نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو، اور اس سے اللہ کی
رضا مقصود و مطلوب ہو“۔ (سنن نسائی،كتاب الجهاد،حدیث: 3142)
اخلاص ہی وہ کسوٹی ہے جس پر انسان کے اعمال تولے جاتے ہیں۔
اگر نیت درست ہو تو معمولی عمل بھی انسان کو جنت کے اعلیٰ درجات تک پہنچا دیتا ہے،
اور اگر نیت خراب ہو تو بڑی سے بڑی عبادت بھی ضائع ہو جاتی ہے۔ آج کے دور میں ریاکاری،
نمود و نمائش اور شہرت کی خواہش عام ہو چکی ہے، اس لیے ہمیں اپنے دلوں کا محاسبہ
کرتے رہنا چاہیے۔ ایک مومن کی پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے ہر عمل میں اللہ کی رضا کو
مقدم رکھے۔ اگر ہماری نماز، روزہ، صدقہ اور اخلاق سب اخلاص سے بھر جائیں تو نہ صرف
ہماری زندگی سنور جائے بلکہ آخرت میں بھی کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچا
اخلاص عطا فرمائے۔ آمین۔
Dawateislami