ہر نیک عمل میں اخلاص بنیادی حیثیت رکھتا ہے، چاہے وہ دینی عبادات ہوں (جیسے: نماز، روزہ، حج، صدقہ و خیرات وغیرہ) یا دنیاوی معاملات (جیسے: کسی کی مدد کرنا، حسنِ سلوک، تعلقات کا نبھانا وغیرہ)۔

اسی لیے نبی کریم ﷺ نے بارہا اخلاص کی تعلیم دی اور اس کی ترغیب دلائی۔ اس بارے میں کئی احادیثِ مبارکہ وارد ہوئی ہیں، جو اس کی اہمیت پر روشن دلیل ہیں۔

نیت کا درست ہونا:‏ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، جب تک نیت خالص نہ ہوگی، عمل میں اِخلاص پیدا نہیں ہوگا، کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اخلاص ہے۔

حدیثِ پاک میں ہے: "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوٰى" ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر شخص کے لیے وہی ہے جو اس نے نیت کی۔(صحیح بخاری، کتاب بدءالوحی ، صفحہ نمبر:191، حدیث نمبر: 1،مطبوعہ: منشورات مروان دعبول لبنان بیروت)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں:نیت، ارادۂ عمل کو بھی کہتے ہیں اور اخلاص کو بھی، یعنی اللہ و رسول کو راضی کرنے کا ارادہ۔ یہاں دوسرے معنی مراد ہیں یعنی اعمال کا ثواب اخلاص سے ہے، جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ اس صورت میں یہ حدیث اپنے عموم پر ہے کوئی عمل اخلاص کے بغیر ثواب کا باعث نہیں، خواہ عباداتِ محضہ ہوں جیسے: نماز، روزہ وغیرہ، یا عباداتِ غیر مقصودہ جیسے: وضو، غسل، کپڑا، جگہ، بدن کا پاک کرنا وغیرہ کہ ان پر ثواب اخلاص سے ہی ملے گا۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ اخلاص اور نیتِ خیر ایسی نعمتیں ہیں کہ ان کے بغیر عبادات محض عادتیں بن جاتی ہیں، اور ان کی برکت سے کفر شکر بن جاتا ہے، اور گناہ و معصیت اطاعت۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد: 1،صفحہ نمبر 40، حدیث نمبر: 1 ، مطبوعہ: قادری پبلشرز لاہور)

خالص عمل کی فضیلت :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ ترجمہ: اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اُس کے لیے ہو اور صرف اُس کی رضا کے لیے کیا گیا ہو۔(سنن النسائی، کتاب الجہاد، باب الاستنصار بالضعیف، صفحہ : 747،حدیث:3140، مطبوعہ: منشورات مروان دعبول لبنان بیروت)

محترم قارئین! اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ صرف وہی عمل قابلِ قبول ہے جو اخلاص کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا جائے۔اللہ اخلاص کو دیکھتا ہےحدیثِ پاک میں ہے:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "إِنَّ اللّٰهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلٰكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ"ترجمہ: بے شک اللہ تمہاری صورتوں اور تمہارے مال کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔(صحیح مسلم، جلد 4، صفحہ 1987، حدیث: 2564، دار احیاء التراث العربی)

محترم قارئین! اس حدیثِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے دل اور نیت کو دیکھتا ہے، اور اخلاص ہی بندے کے عمل کی اصل روح ہے۔

عمل میں اخلاص پیدا کرو:حضرت یحییٰ بن معاذ رازی رَحمۃ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: "جسے یہ معلوم ہے کہ اس کے اعمال قیامت کے دن اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے، اور انہی اعمال کے مطابق اسے جزا دی جائے گی، تو اُسے چاہیے کہ اپنے کام درست کرنے کی کوشش کرے، اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرے، اور جو گناہ اس سے ہو چکے ہیں، اُن سے لازمی توبہ کر لے۔"(روح البیان، سورۃ القمر، تحت الآیۃ: 53، مخلصاً)

اخلاص کے ساتھ عبادت:حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےرسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: "جس نے لیلۃُ القدر کی رات ایمان اور اخلاص کے ساتھ شب بیداری کر کے عبادت کی، تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ (صغیرہ) گناہ بخش دیتا ہے۔" (صحیح بخاری، کتاب الإیمان، باب قیام لیلۃ القدر من الإیمان، صفحہ نمبر:201، حدیث: 35،مطبوعہ: منشورات مروان دعبول لبنان بیروت)

دعا میں اخلاص :حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےسرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، ان کی نمازوں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے فرماتا ہے۔" (سنن النسائی، کتاب الجہاد، باب الاستنصار بالضعیف، صفحہ : 756،حدیث:3178، مطبوعہ: منشورات مروان دعبول لبنان بیروت)

دین میں اخلاص :حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یمن کی طرف بھیجا تو انہوں نے عرض کی: ’’یا رسولَ اللہ! مجھے کوئی وصیت فرمائیں۔‘‘رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اپنے دین میں اخلاص رکھو، تمہارا تھوڑا عمل بھی کافی ہو جائے گا۔‘‘ (المستدرک، کتاب الرقاق، جلد 5 صفحہ 435، الحدیث: 7916 ،مطبوعہ: دار احیاء التراث العربی)

محترم قارئین! مذکورہ روایت سے اخلاص کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ اخلاص کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی، بلکہ دین میں اخلاص کا حکم دیا گیا ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر عبادت اخلاص کے ساتھ بجا لائیں، کیونکہ یہی اعمال کی اصل روح ہے۔

فوائد ونقصان:محترم قارئین! اخلاص ایک ایسی صفت ہے جس کے بغیر بندے کی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ جب بندے سے اخلاص رخصت ہو جاتا ہے تو ایمان کی روحانیت بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ ایسا شخص اگر کسی کی مدد بھی کرے تو لوگ اس سے محبت نہیں کرتے، بلکہ اُسے مطلبی کہا جاتا ہے۔ یوں وہ ظاہری طور پر نیکی کے کام تو کرتا ہے، مگر باطنی طور پر نقصان اٹھاتا ہے۔لیکن اگر اخلاص دل میں آ جائے تو وہی اعمال بے شمار فوائد اور ثمرات کا ذریعہ بن جاتے ہیں:

(1)اخلاص اعمال کی قبولیت کا سب سے عظیم سبب ہے، بشرطیکہ اس میں نبی کریم ﷺ کی اتباع بھی شامل ہو۔ (2) اخلاص کی وجہ سے بندے کو اللہ پاک اور فرشتوں کی محبت حاصل ہوتی ہے، اور زمین والوں کے دلوں میں اس کی مقبولیت لکھ دی جاتی ہے۔ (3)اخلاص، تھوڑے عمل یا معمولی دعا پر بھی زیادہ اجر اور عظیم ثواب عطا کرواتا ہے۔ (4)مخلص کا ہر وہ عمل جس سے اللہ کی رضا مطلوب ہو، وہ عمل مباح ہی کیوں نہ ہو، لکھا جاتا ہے۔ (5)مخلص اگر سو جائے یا بھول جائے تو بھی وہی عمل لکھا جاتا ہے جو وہ معمول کے مطابق کرتا تھا۔ (6) اگر مخلص بندہ بیمار ہو جائے یا سفر میں ہو تو اخلاص کی وجہ سے اس کے وہی اعمال لکھے جاتے ہیں جو وہ صحت و اقامت میں کرتا تھا۔ (7) اخلاص آخرت کے عذاب سے نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔(8) دنیا و آخرت کی مصیبتوں سے نجات بھی اخلاص کے ثمرات میں شامل ہے۔ (9)اخلاص کے سبب آخرت میں درجات بلند ہوتے ہیں۔(10) خاتمہ اچھا نصیب ہوتا ہے اور دعائیں قبول ہوتی ہیں۔

اللہ پاک ہمیں اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔