اسلام کے نزدیک اس کائنات کی اور انسان کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے کی ہے اور اس تخلیق کا مقصد اس امر میں انسان کی آزمائش ہے کہ وہ اس عارضی مہلتِ حیات میں حسنِ عمل کا مظاہرہ کرتا ہے یا بدعملی کا۔ حسنِ عمل کا صلہ موت کے بعد ایک دوسری و ابدی زندگی کی ابدی نعمتیں ہیں اور بدعملی کی سزا ایک ہمیشہ رہنے والی حیاتِ عذاب ہے۔ اسلام کے عطا کردہ اس تصوّرِ حیات کی رُو سے انسان کا اصل اخلاقی مسئلہ یہ ہے کہ وہ سیرت و کردار کا کونسا ایسا اسلوب اختیار کرے جو اس کے مقصدِ زندگی کے تکمیل میں ممد و معاون ہو سکے، اور کردار و عمل کے وہ کون سے پہلو ہیں جو اس مقصد کی تکمیل میں مانع ہوتے ہیں اور ان سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ ہمیں زندگی کا وہی سلیقہ اور قرینہ مطلوب ہے جو خدا نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے سے ہمیں سکھایا ہے۔

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ : اَ لْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَلِکُلِّ امْرِیئٍ مَا نَوَی، فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُهُ إِلَی اللهِ وَرَسُوْلِهِ فَھِجْرَتُهُ إِلَی اللهِ وَرَسُوْلِهِ، وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُهُ لِدُنْیَا یُصِيْبُھَا، أَوِ امْرَأَةٍ یَتَزَوَّجُھَا، فَھِجْرَتُهُ إِلَی مَا ھَاجَرَ إِلَيْهِ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی، پس جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف ہجرت کی اس کی ہجرت اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے لئے ہی شمار ہو گی، اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہوئی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی ۔(أخرجہ البخاری فی الصحیح، کتاب : الإیمان، باب : ما جاء أن الأعمال بالنیّۃ والحسبۃ ولکل امریء ما نوی، 1 / 30، الرقم : 54 )

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رضي الله عنه قَالَ : جَاء رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ : أَرَأَيْتَ رَجُـلًا غَزَا یَلْتَمِسُ الْأَجْرَ وَالذِّکْرَ مَا لَهُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَا شَيْئَ لَهُ فَأَعَادَهَا ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ یَقُوْلُ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَا شَيْئَ لَهُ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللهَ لَا یَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا کَانَ لَهُ خَالِصًا وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ۔ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ۔حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا کہ اگر کوئی شخص لالچ اور طمع کی خاطر یا نام آوری کے لیے جہاد کرے تو اسے کیا ملے گا؟ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا بعد ازاں اس شخص نے یہی سوال تین دفعہ کیا اور حضور نبی اکرم ﷺ نے یہی جواب عنایت فرمایا کہ اسے کچھ ثواب نہیں ملے گا، بعد ازاں حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول فرماتا ہے جو خالص اس کے لیے ہو اور اسے کرنے سے محض اللہ تعالیٰ کی رضامندی مقصود ہو۔‘‘

(أخرجہ النسائی فی السنن، کتاب : الجهاد، باب : من غزا یلتمس الأجر والذکر، 6 / 25، الرقم : 3140،)

لہذا ہمیں بھی چائیے کہ ہم فرامین نبوی پر عمل کرتے ہوئے جو بھی نیک کام کریں خالص اللہ کی رضا کے لیے کریں نہ کہ کسی کو دیکھانے کےلیے اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اخلاص کے ساتھ نیک کام کرنے والا بنائے۔