اخلاص کے لغوی معنی پاک صاف ہونے اور خالص ہونے کے ہیں۔ امام راغب اصفہانی اخلاص کی تعریف کرتے ہوئےفرماتے ہیں :الاخلاص التَبَرِّی عَن کُلِّ مادُون اللہ تعالی۔اخلاص یہ ہے کہ ہر ما سوا اللہ سے دل کو پاک کر لیا جائے۔(امام راغب اصفہانی، المفردات ،ص: 293 )

قرآن مجید میں اخلاص کا حکم دیتے ہوئے ارشاد باری تعالیٰ ہے:اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ(۲) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری تو اللہ کو کو پوجو نِرے اس کے بندے ہوکر ۔ (الزمر، 39: 2)

اس آیت مبارکہ میں مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے اپنی عبادات کو اخلاص سے مزین کرو۔

اسلام دین فطرت اور مکمل ضابطہ حیات ہے، دیگر تہذیبوں کی بنیاد مفاد اور جذبات پر جبکہ اسلام کی بنیاد اخلاص اور حکمت پر قائم ہے۔ اسلام جذبات کی بجائے اخلاص کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہےاخلاص اگر اعلیٰ ہو اور عمل قلیل بھی ہو تو وہ کثیر بن جاتا ہے اور اس کے برعکس اگر صدق و اخلاص کمزور ہو تو عمل جس قدر بھی ہو وہ قلیل ہوجاتا ہے۔آقا دو جہاں صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :نِیَّۃُ الْمُؤمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہٖ یعنی’’ مومِن کی نیّت اُس کے عمل سے بہتر ہے ۔‘‘ (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر ج۶ ص۱۸۵حدیث ۵۹۴۲ )

جس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومن کا نیک ارادہ اور نیت اس کے کیے گئے اچھے عمل سے زیادہ اہمیت رکھتاہے، کیونکہ انسان جس قدر نیت کرتا ہے ضروری نہیں کہ وہ پورا عمل کر پائے، لیکن اس کی نیت میں ہی ثواب اور اخلاص ہوتا ہے۔ایک مسلمان جو نیک کام کرنے کا ارادہ کرتا ہے، وہ اگرچہ اسے پورا نہ کر سکے، لیکن اس کی نیت کی وجہ سے اسے پورا اجر ملتا ہے۔دوسری طرف ایک شخص اگر گناہ کرنے کا ارادہ کرلے مگر اللہ کے خوف سے وہ گناہ نہ کرے تو آقا علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ پاک فرشتوں کو حکم دیتا ہیں کہ اس کے لیے ایک نیکی لکھ لو کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں بھی اس کا اخلاصِ نیت کام آیا۔ وہ اللہ کے عذاب و ناراضگی سے ڈر گیا اور اللہ کے ڈر کی وجہ سے اُس نے گناہ نہیں کیا۔ پس صدق و اخلاص کی قوت کی بناء پر نیکی کا اجر اسے اللہ سے ڈرنے کی بات پر مل جاتا ہے۔ مخلص کا ہر عمل جس سے اللہ کی خوشنودی مقصود ہو لکھا جاتا ہے، وہ عمل مباح ہی کیوں نہ ہو۔

حضرتِ سَیِّدُنا عبدُ اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولُ الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:گزشتہ زمانے میں تین(3) شخص کہیں جارہے تھے کہ بارش ہونے لگی تو وہ پناہ لینے کیلئے ایک غار میں داخل ہوئے،اچانک پہاڑ سے ایک چٹان گِری جس نے غار کا منہ بند کردیا۔ یہ دیکھ کر انہوں نے کہا: اس مصیبت سے نجات کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم اپنے اپنے نیک اعمال کا وسیلہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش کر کے دُعا کریں ۔ چنانچہ،ان میں سے ایک نے کہا: یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! میرے ماں باپ بہت بوڑھے ہو گئے تھے، میں ان سے پہلے نہ تو اپنے اہل و عیال کو پینے کیلئے دودھ دیا کرتا تھا نہ ہی اپنے خادموں کو ، ایک دن میں درختوں کی تلاش میں بہت دُور نکل گیا، جب واپس آیا تو میرے والدین سو چکے تھے، میں دودھ لے کر ان کے پاس آیا تو انہیں سویا ہوا پایا، میں نے نہ تو انہیں جگانا مناسب نہ سمجھا اور نہ ہی ان سے پہلے اہل وعیال میں سے کسی کو دینا پسند کیا بلکہ میں دودھ کا پیالہ لئے اپنے والدین کے پاس کھڑا رہا، جب صبح ہوئی تو میں نے انہیں دودھ پیش کیا ۔ یااللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اگر میں نے یہ عمل صرف تیری رِضا کے لئے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرما! اس کی دُعا سے چٹان کچھ سِرَک گئی ، لیکن ابھی اتنی جگہ نہ بنی تھی کہ وہ نکل سکتے ، پھردوسرے نے کہا: یااللہ عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے میرے چچا کی بیٹی لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھی،میں نے اس سے بُرائی کا اِرادہ کیا تو اس نے انکار کر دیا ، پھر وہ قحط میں مبتلا ہوئی تو میرے پاس آئی میں نے اس شرط پر اسے 100 دینا ر دیئے کہ وہ میری خواہش پوری کردے ، وہ مجبور تھی تیار ہوگئی ،جب میں اس کے ساتھ تنہائی میں گیا اور اس پر قابو پالیا تو اس نے کہا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈر اور ناحق مُہر کو نہ توڑ (یعنی اس بُرے کام سے باز آجا) یہ سن کر میں نے اسے چھوڑ دیا اورمیں بُرائی سے باز رہا، حالانکہ مجھے اس سے شدید محبت تھی، پھر میں نے ا س سے وہ دِینا ر بھی واپس نہ لئے ، یااللہ عَزَّ وَجَلَّ !اگر میں نے یہ عمل صرف تیری رِضا کیلئے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فر ما !چٹان کچھ اور سَرَک گئی لیکن اب بھی وہ باہر نہ نکل سکتے تھے۔ تیسرے نے کہا : یااللہ عَزَّ وَجَلَّ !میں نے کچھ مزدوروں سے کام کروایا اور سب کی مزدوری دے دی، لیکن ان میں سے ایک مزدور اُجرت چھوڑ کر چلا گیا،میں نے وہ تجارت میں لگا دی تو اس کی رقم بڑھتی رہی کچھ عرصہ بعد وہ آیااور کہا : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے !میری اُجرت مجھے دے دے۔ میں نے کہا :یہ اونٹ، گائے، بکری ا ور غلام جو کچھ تم دیکھ رہے ہو،یہ سب تمہارے ہیں ۔ اس نے کہا: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے! مجھ سے مذاق مت کر۔ میں نے کہا : میں مذاق نہیں کر رہا، یہ سب کچھ تمہارا ہی ہے۔ چنانچہ، وہ سب مال لے کر چلا گیا اور کچھ بھی نہ چھوڑا۔ یااللہ عَزَّ وَجَلَّ !اگر میرا یہ عمل تیری رِضا کیلئے تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرما!پس چٹان ہٹ گئی اوروہ تینوں باہر نکل کر اپنی منزل کی طرف چل دئیے۔( بخا ری، کتاب الانبیاء، باب حدیث الغار، ۲/۴۶۴، حدیث:۳۴۶۵) ( شرح بخاری لابن بطال، کتاب الادب باب اجابۃ دُعاء من بر والدیہ، ۹ /۱۹۳)

اخلاص اس کیفیت کا نام ہے جس میں بندہ جو کرتا ہے اللہ کی محبت، رضا، قرب اور حکم کی تعمیل کے لیے کرتا ہے، اس کے سوا کوئی شے اُس کی نیت و خیال میں داخل نہیں ہوتی۔ اِخلاص کے ساتھ عمل مومن کی نشانی ہے یہ اخلاص تھوڑے عمل میں بھی شامل ہو تو اُسے بہت بڑا اور طاقتور بنا دیتا ہے۔ عمل مقدار کا نام ہے اوراخلاص معیار کا نام ہے۔اخلاص صرف یہ نہیں کہ نماز،روزہ اور دیگر عبادات میں ریا کاری نہ ہو بلکہ اخلاص یہ ہے کہ ہر اچھا کام خواہ وہ ملازمت ہی کیوں نہ ہو یا کسی کے ساتھ اچھا سلوک صرف اس لیے اور اس نیت سے کیاجائے کہ ہمارا خالق وپروردگار ہم سے راضی ہو ہم پر رحمت فرمائے اور اس کی ناراضگی اور غضب سے ہم محفوظ رہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ تمام اچھے اعمال واخلاق کی روح یہی اخلاصِ نیت ہے اگر اچھے سے اچھے اعمال صدق اخلاص سے خالی ہوں اور ان کا مقصد رضاء الٰہی نہ ہو بلکہ نمود ونمائش، ریا کاری اور دکھلاوا ہو تو اللہ رب العزت کے نزدیک ایسے اعمال کی کوئی قیمت نہیں۔ آج امت مسلمہ جس پرفتن دور سے گزر رہی ہے اس کی ایک بڑی وجہ صدق و اخلاص کی کمی ہے۔ الله تعالٰی کی بارگاہ اقدس میں دعاگو ہوں کہ الله تبارک و تعالٰی ہم سب کو اخلاص کی دولت نصیب فرمائے آمین۔