سیرت مصطفی ﷺ سے
ہمیں محبت ہی کا درس ملتا ہے۔ حضور علیہ الصلوة و السلام اپنے تمام ہی اصحاب سے
نہایت محبت و شفقت کا معاملہ رکھتے مگر انصار وہ خوش نصیب گروہ صحابہ ہیں، جنہوں
نے محبتِ مصطفی ﷺ سے ایک خاص حصہ پایا ہے۔ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کے متعلق
فرمایا: انصار سے وہی محبت کرے گا جو مومن ہو اور ان سے بغض وہی رکھے گا جو منافق
ہے۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)اس حدیث مبارکہ سے عظمتِ انصار اور نبی کریم ﷺ کی
انصار سے محبت ظاہر ہوتی ہے۔
انصار کے
متعلق اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ
مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ
اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا
الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ
11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے
ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر
رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
اس آیت مبارکہ
میں انصار صحابہ کرام کی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے
راضی ہیں۔ قربان جائیے ان کی خوش نصیبی پر کہ ان کی فضیلت قرآن پاک میں بیان کی
گئی اور نبی کریم ﷺ ان سے خاص محبت فرماتے ہیں۔
آئیے نبی کریم
ﷺ کی ان سے محبت کے ضمن میں چند احادیث مبارکہ ملاحظہ ہوں:
ایمان
کی علامت: نبی
کریم ﷺ نے انصار کی محبت کو ایمان کی علامت قرار دیا ہے نیز ان کے بغض کو نفاق کی
علامت قرار دیا ہے چنانچہ آپ کا ارشاد ہے کہ انصار سے محبت کرنا ایمان کی نشانی ہے
اور انصار سے بغض رکھنا منافقت کی نشانی ہے۔(بخاری، 2/555، حدیث: 3784)
میں
انصار سے ہوتا: حضور
اکرم علیہ الصلوة و السلام نے ارشاد فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ہی
ایک فرد ہوتا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
انصار
کے لئے دعا: رسول
اللہ ﷺ نے انصار کو دعا دیتے ہوئے بارگاہِ الہی میں عرض کی: اے اللہ! انصار کی
مغفرت فرما، ان کے بیٹوں کی اور ان کے بیٹوں کے بیٹوں کی۔ (مسلم، ص 1044، حدیث:
6414)
سب
سے محبوب: نبی
کریم ﷺ نے کچھ انصاری بچوں اور عورتوں کو ایک شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا، تو
اللہ کے نبی ﷺ (ان کی تعظیم اور محبت میں) سیدھے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: اے اللہ!
تو جانتا ہے، اے انصار تم لوگ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو، اے اللہ! تو جانتا
ہے، اے انصار تم لوگ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔ (بخاری، 2/ 556، حدیث: 3785)
تمہارے
لئے اللہ کا رسول: فتح مکہ کے دن جب نبی کریم ﷺ نے اموال غنیمت قریش
میں تقسیم کر دیا تو انصار غم زدہ ہو گئے مگر قربان جائیے آقا جان عالم ﷺ کے انداز
دلجوئی اور انصار سے محبت پر، آپ علیہ الصلوة و السلام فرمایا: کیا تم اس بات سے
راضی نہیں کہ لوگ دنیا کے ساتھ جائیں اور تم الله کے رسول کے ساتھ جاؤ۔ تو انصار
نے عرض کی: کیوں نہیں! (ہم راضی ہیں)۔ (بخاری، 2 / 564، حدیث: 4330)
معلوم ہوا کہ
انصار بارگاہ رِسالت میں مقرب اور حبیبِ خدا ﷺ کے بڑے ہی محبوب ہیں۔ اللہ پاک ہمیں
انصار سے محبت اور ان کی تعظیم کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
Dawateislami