اخلاص ایک قلبی کیفیت کا نام ہے جو کہ"ریا" کی متضاد ہے۔ اسکا ایک معنی "عبادت بے ریا" بیان کیا گیا ہے ، یعنی بندہ ہر نیک کام خالصتا (essentially) اللہ ہی کیلئے کرے ۔

اخلاص کی تعریف :’’کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔‘‘(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۵)

جس طرح علم کے بغیر عمل ممکن نہیں اسی طرح اخلاص کے بغیر عمل بیکار اور فضول ہے۔ ان دونوں چیزوں میں سے کوئی ایک بھی فوت ہو جائے تو سمجھنا چاہیے کہ ابھی بندے کا دین وایمان ناقص اور نامکمل ہے۔ ان امور کے باہمی امتزاج سے ہی بندہ مومن کامل ہوتا ہے۔ مذہب اسلام میں اخلاص اور حسن نیت کی بڑی اہمیت ہے۔ اعمال کی در ستی اور افعال کی صحت کا دارومدار اخلاص اور حسن نیت پر ہے۔

احادیث کریمہ میں کثیر مقامات پر اخلاص کی اہمیت اور رِیا کی مذمت ملتی ہے آئیے چند احادیث ملاحظہ کیجئے ۔

(1)حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر تھا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خوشخبری ہے مخلصین کے لیے، وہ تاریکیوں میں ہدایت کے چراغ ہیں، ان لوگوں کے ذریعے ہر تاریک فتنہ چھٹ جاتا ہے۔ (أخرجہ ابو نعيم فی الحلیۃ: 16/ 1 والبيہقی الشعب 5/343 والديلمی فی الفردوس 2/448)

(3)حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔‘‘(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)

(4)شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باِذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ و ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی عمل قبول فرماتاہے جو اخلاص کے ساتھ اور اس کی رضا کے لئے کیا جاتا ہے ‘ ‘ ۔ (سنن النسائی،کتاب الجہاد،الحدیث: ۳۱۴۲،ص۲۲۹۰)

سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اے لوگو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے اخلاص کے ساتھ عمل کرو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی اعمال قبول فرماتاہے جو اس کے لئے اخلاص کے ساتھ کیے جاتے ہیں اور یہ مت کہا کرو کہ میں نے یہ کام اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور رشتہ داری کی وجہ سے کیا ہے۔ ‘‘ (سنن الدارقطنی،کتاب الطہار ت ، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰،ج۱،ص۷۳)

اللہ پاک اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے ہمیں اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ