نبی کریم ﷺ کی انصارِ مدینہ سے محبت انتہائی گہری، والہانہ اور امت کے لیے ایک معیارِ ایمان تھی۔ آپ ﷺ نے انصار کی قربانیوں، وفاداری اور اولین مدد کے اعتراف میں انہیں ایمان کی نشانی قرار دیا۔ ان سے محبت ایمان اور بغض کو نفاق (منافقت) کی علامت بتایا گیا۔

صحیح مسلم میں ہے: انصار سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔ جو شخص ان سے محبت کرے گا، اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو اُن سے بغض رکھے گا اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوگا۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)

مسند احمد بن حنبل میں ہے: محبت ابوبکر وعمر کی ایمان سے ہے اوران کا بغض کُفر،اورمحبت انصار کی ایمان سے ہے اوران کا بغض کفر،اورمحبت عرب کی ایمان سے ہے اوران کا بُغض کفر،اورمیرے اصحاب کو جو براکہے اس پر الله کی لعنت،اورجو ان کے معاملہ میں میرا لحاظ رکھے میں روز قیامت اس کا حافظ ونگہبان ہوں گا.

معجم الکبیر میں ہے:

فتاویٰ رضویہ میں بیہقی کے حوالے سے حدیث پاک نقل کی گئی ہے: جو میری اولاد اور انصار اور عرب کا حق نہ پہچانے وہ تین علتوں سے خالی نہیں: یا تو منافق ہے یا نطفۂ حرام یا حیضی بچہ۔ (فتاویٰ رضویہ،22/420)