نعیم
اکرم (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ ،کراچی،پاکستان)
اِخلاص کی تعریف:’’کسی بھی نیک عمل میں
محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔‘‘ (نجات دلانے والے
اعمال کی معلومات،صفحہ۲۵)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین
ہے۔ (پ۳۰،
البینہ: ۵)
اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ
کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے
متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ (نجات
دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)
اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:حضورنبی
کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل
بھی تمہیں کافی ہے۔‘‘(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)
اخلاص کو تمام عبادات اور نیک اعمال میں روح کی حیثیت
حاصل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے اخلاص کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ
الْخَالِصُترجمہ کنز الایمان: ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے۔
(الزمر:3)
حضرت سیدنا سہل تستری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
اخلاص یہ کہ بندے کا ٹھہرنا اور حرکت کرنا بھی خالصتاً اللہ رب العزت کیلئے ہو
جائے۔حضرت سیدنا ابو عثمان نیشاپوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اخلاص یہ ہے کہ
بندہ فقط خالق کی طرف ہمہ وقت متوجہ رہنے سے مخلوق کو دیکھنا بھولنا جائے۔حضرت سیدنا
جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اِخلاص اللہ اوراس کے بندے کے درمیان ایک
راز ہے، اسے فرشتہ نہ جانے کہ لکھ لے اور شیطان بھی نہ جانے کہ خرابی پیدا کرے اور
خواہش نفس کو بھی اس کا علم نہ ہو کہ اسے اپنی طرف مائل کرے۔( احیاء العلوم، ۵ / ۲۷۱ تا ۲۷۴ملتقطا، الرسالۃ القشیریۃ، باب
الاخلاص، ص۲۴۴)
Dawateislami