سرفراز
ذوالفقار (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور،پاکستان)
اخلاص اسلام کی روح ہے۔ بغیر اخلاص کے نہ عبادت کا وزن
ہے اور نہ عمل کی قبولیت۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر عمل صرف اور صرف اللہ
تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے، نہ کہ لوگوں کو دکھانے، تعریف حاصل کرنے یا دنیاوی
فائدے کے لیے۔ قرآن و حدیث میں اخلاص کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے، اور نبی کریم ﷺ
نے بار بار اس کی تاکید فرمائی۔
(1) نیت اور اخلاص:إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا
نَوَىترجمہ:اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس
کی اس نے نیت کی۔(صحیح البخاری: حدیث 1،صحیح مسلم: حدیث 1907)
یہ حدیث اخلاص کی بنیاد ہے۔ اگر نیت خالص نہ ہو تو بڑا
عمل بھی بے وزن ہو جاتا ہے، اور اگر نیت خالص ہو تو چھوٹا عمل بھی اللہ کے ہاں عظیم
بن جاتا ہے۔
(2)اللہ صرف خالص عمل قبول فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا
كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ ترجمہ:اللہ
تعالیٰ وہی عمل قبول فرماتا ہے جو خالص ہو اور جس سے اس کی رضا مقصود ہو۔(سنن نسائی:
حدیث 3140،مسند احمد: حدیث 20659)
یہ حدیث واضح کر دیتی ہے کہ ریاکاری یا دکھاوے والا عمل
اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں، چاہے وہ بظاہر کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو۔
(3) قیامت کے دن
سب سے پہلے ریاکاروں کا انجام:إِنَّ
أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِمْ
ترجمہ:قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کا فیصلہ ہوگا ان
میں وہ بھی ہوں گے جنہوں نے علم، جہاد اور صدقہ اس لیے کیا کہ لوگ تعریف کریں۔(صحیح
مسلم: حدیث 1905)
یہ حدیث ریاکاری کے خطرناک انجام کو بیان کرتی ہے اور
اخلاص کی اہمیت کو مزید واضح کرتی ہے کہ بغیر اخلاص کے بڑے بڑے اعمال بھی ہلاکت کا
سبب بن سکتے ہیں۔
(4) اخلاص نجات کا ذریعہ:مَنْ قَالَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا دَخَلَ الْجَنَّةَ۔
ترجمہ: جس نے اخلاص کے ساتھ لا إله
إلا الله کہا وہ جنت میں داخل ہوگا۔(مسند احمد: حدیث 14636،المعجم
الأوسط للطبرانی)
یہ حدیث بتاتی ہے کہ صرف کلمہ کہنا کافی نہیں بلکہ اس میں
اخلاص ہونا ضروری ہے، تبھی نجات حاصل ہوگی۔
اخلاص وہ صفت ہے جو عمل کو زندہ کرتی ہے۔ بغیر اخلاص کے
عبادت ایک رسم بن جاتی ہے اور اخلاص کے ساتھ معمولی عمل بھی اللہ کے ہاں عظیم ہو
جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ہر عمل، عبادت، خدمت اور دعوت میں نیت کو خالص کریں
اور صرف اللہ کی رضا کو مقصد بنائیں، کیونکہ اخلاص ہی قبولیت کی کنجی اور نجات کا
راستہ ہے۔
Dawateislami