محمد
شہریار عطاری (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی، پاکستان)
اسلام میں اخلاص کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اخلاص کا مطلب
یہ ہے کہ انسان ہر نیک عمل صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے، نہ کہ
لوگوں کو دکھانے، تعریف حاصل کرنے یا دنیاوی فائدے کے لیے۔ شریعتِ اسلامیہ میں
اعمال کی قبولیت کا دار و مدار اخلاص پر رکھا گیا ہے، اسی لیے نبی کریم ﷺ نے سب سے
پہلے نیت اور اخلاص کی اصلاح پر زور دیا۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:"اعمال کا دار و مدار نیتوں
پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔"(صحیح بخاری، کتاب بدء
الوحی، حدیث نمبر 1،صحیح مسلم، حدیث نمبر 1907)
یہ حدیث اخلاص کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اگر عمل کتنا ہی
بڑا کیوں نہ ہو، جب تک نیت خالص نہ ہو وہ اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں۔ نماز،
روزہ، صدقہ، حج سب کی بنیاد نیت اور اخلاص ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"سب سے پہلے جن لوگوں کا قیامت
کے دن فیصلہ کیا جائے گا ان میں ایک وہ شخص ہوگا جس نے علم حاصل کیا اور قرآن
پڑھا، لیکن یہ سب اس لیے کیا کہ لوگ اسے عالم کہیں چنانچہ اسے جہنم میں ڈال دیا
جائے گا۔"(صحیح مسلم، کتاب الامارہ، حدیث نمبر 1905)
یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ بغیر اخلاص کے دینی خدمات بھی
انسان کو نجات نہیں دلا سکتیں۔ اگر مقصد اللہ کی رضا کے بجائے شہرت ہو تو عمل وبال
بن جاتا ہے۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ صرف اسی
عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو اور جس سے اس کی رضا مقصود ہو۔"(سنن
نسائی، کتاب الجہاد، حدیث نمبر 3140)
یہ روایت اس بات کو بالکل واضح کر دیتی ہے کہ اخلاص قبولیت
کی شرط ہے، اختیار نہیں۔
ایک اور ایمان افروز حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"بندہ
کبھی اللہ کی رضا کے لیے کوئی ایسا چھوٹا سا عمل کر لیتا ہے جسے وہ معمولی سمجھتا
ہے، مگر اللہ اس کے ذریعے اسے بلند درجات عطا فرما دیتا ہے۔"(صحیح بخاری،
کتاب الرقاق، حدیث نمبر 6478)
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا
چھوٹا عمل بھی اللہ کے نزدیک بڑا بن جاتا ہے، جبکہ ریاکاری کے ساتھ کیا گیا بڑا
عمل بے وزن ہو جاتا ہے۔
اسی مضمون کی تائید میں نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: جو
شہرت طلب کرے گا( قیامت کے دن) اس کے عیبوں کی تشہیر ہو گی اورجو شخص لوگوں کو
دکھانے کے لئے عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس کا بدلہ دے گا۔ (صحیح بخاری، کتاب الرقاق، حدیث نمبر 6499،صحیح مسلم، حدیث
نمبر 2986)
ان تمام احادیث سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ
اخلاص دین کی روح ہے۔ اعمال کی کثرت نجات کی ضمانت نہیں بلکہ دل کی سچائی اور نیت
کی پاکیزگی اصل معیار ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے اعمال کے ساتھ
ساتھ اپنی نیت کا بھی محاسبہ کرے، کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت صرف ایک ظاہری عمل
بن کر رہ جاتا ہے، جبکہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا معمولی عمل بھی اللہ کی رضا اور
نجات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔اللہ پاک ہمیں اخلاص کی دولت سے مالامال فرمائے آمین یارب
العالمین۔
Dawateislami