الله تعالٰی انسان کے ظاہر کو نہیں بلکہ اس کے دل کو دیکھتا
ہے دل کی پاکیزگی اور نیت کی سچائی کو ہی اخلاص کہا جاتا ہے اخلاص کے بغیر عبادات
محض رسم بن کر رہ جاتی ہیں اس لیے ہر مسلمان کو اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرنے کی
کوشش کرنی چاہیے۔
اخلاص کی تعریف: کسی بھی نیک عمل میں محض
رضائے الہی حاصل کرنے کا ارادہ کرنا اخلاص کہلاتا ہے۔
اسلام میں اعمال کی اصل بنیاد اخلاص ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ
ہے کہ انسان اپنے ہر قول و فعل میں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو پیشِ نظر
رکھے، نہ کہ لوگوں کی تعریف، شہرت یا دنیاوی فائدہ۔ اگر عمل بظاہر کتنا ہی بڑا کیوں
نہ ہو، لیکن اس میں اخلاص نہ ہو تو وہ اللہ کے نزدیک بے وزن ہو جاتا ہے۔ قرآن و حدیث
میں اخلاص کو دین کی روح قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے متعدد احادیث میں اخلاص کی
اہمیت کو واضح فرمایا ہے۔
(1) نیت کی بنیاد پر اعمال کا دار و مدار:حضرت
عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اعمال کا دار و مدار نیتوں
پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔"(بخاری: 1، مسلم: 1907)یہ
حدیث اس بات کی اصل بنیاد ہے کہ عمل کی قبولیت اخلاص پر منحصر ہے۔
(2) اللہ صرف خالص عمل قبول کرتا ہے:حضرت
ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ اس عمل کو قبول
نہیں کرتا جو صرف اسی کی رضا کے لیے نہ کیا گیا ہو۔"(سنن نسائی: 3140)اس حدیث
سے واضح ہوتا ہے کہ ریاکاری والا عمل اللہ کے ہاں مردود ہے۔
(3) ریاکاری سے خبردار فرمایا گیا:حضرت
محمود بن لبیدسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"مجھے تم پر سب سے زیادہ
جس چیز کا خوف ہے وہ چھوٹا شرک ہے۔" صحابہ نے پوچھا: چھوٹا شرک کیا ہے؟ فرمایا:
"ریاکاری"۔(مسند احمد: 23630)ریاکاری اخلاص کے بالکل خلاف ہے اور ایمان
کے لیے خطرناک ہے۔
(4) نیت کی وجہ سے اجر مل جاتا ہے:حضرت
ابو کبشہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص نیکی کا ارادہ کرے لیکن کر
نہ سکے، اللہ اسے مکمل اجر عطا فرماتا ہے۔(ترمذی: 2325)
اخلاص کے ساتھ نیت کرنا بھی اللہ کے ہاں قیمتی ہے۔
(5) اللہ دلوں کو دیکھتا ہے:حضرت
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تمہاری صورتوں اور
مال کو نہیں بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔"(مسلم: 2564)
اصل چیز دل کی صفائی اور نیت کا خالص ہونا ہے۔
اخلاص وہ عظیم صفت ہے جو معمولی عمل کو بھی عظیم بنا دیتی
ہے، اور اس کے بغیر بڑے سے بڑا عمل بھی بے کار ہو جاتا ہے۔ ایک مومن کی زندگی کا
مقصد صرف اللہ کی رضا حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ اگر ہم نماز، روزہ، صدقہ، خدمتِ خلق
اور دیگر اعمال میں اخلاص پیدا کر لیں تو ہماری زندگی سنور سکتی ہے اور آخرت میں
کامیابی یقینی ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہر عمل میں اخلاص نصیب فرمائے، آمین۔
Dawateislami