عبد
الرحمن امجد عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم ، لاہور،پاکستان )
اخلاص دینِ اسلام کی روح اور تمام اعمال کی بنیاد ہے۔
اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ہر قول و فعل میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو
مقصود بنائے، نہ لوگوں کی تعریف مطلوب ہو اور نہ ہی دنیاوی فائدہ پیشِ نظر ہو۔
بظاہر نیک عمل بھی اگر اخلاص سے خالی ہو تو اللہ کے ہاں اس کی کوئی قدر نہیں رہتی۔مگر
اخلاص سے کیے جانے والا تھوڑا عمل بھی بڑا بن جاتا ہے ۔جیسا کہ حضرت سیدنا مطرف بن
عبداللہ بن شخیر علیہ الرحمہ اخلاص کے بارے میں فرماتے ہیں: جس کے عمل میں اخلاص
ہو اس کے لیے ویسا ہی اجر ہوگا اور جس کے عمل میں اختلاط یعنی ملاوٹ ہو تو اس کے لیے
اجر بھی ویسا ہی ہوگا ۔(احیاء العلوم مترجم،
ج:5،صفحہ: 260)
پیارے اسلامی بھائیو! اخلاص اللہ پاک کی وہ نعمت ہے جو
کہ خاص اس کے فضل اور کرم سے ہی حاصل ہوتی ہے تو آئیے اس کی اہمیت کو حدیث مبارکہ
کی روشنی میں سنتے ہیں۔
(1) حکمت کی باتیں: ما من عبد يخلص لله العمل اربعين يوما الا ظهرت ينابيع
الحكمة من قلبه على لسانهترجمہ: جو بندہ 40 دن خالص
رضائے الہی کے لیے عمل کرتا ہے تو اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری
ہوتے ہیں۔ ( الزھد لابن المبارک ،باب فضل ذکر اللہ ، ص: 359، حدیث: 1014)
(2) راز الٰہی: حضرت سیدنا حسن بصری علیہ
الرحمہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے :الاخلاص سر من السر استودعته قلب من احببته من عبادي ترجمہ:
اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں ودیعت
رکھتا ہوں ۔(فردوس الاخبار، ج:2 ، ص:145، حدیث نمبر: 4539)
(3) قبولیت کا راز :امیر
المومنین حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہ الکریم فرماتے ہیں قلت عمل کی فکر
نہ کرو بلکہ قبولیت عمل کی فکر کرو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت
معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: اخلص العمل یجزیک منہ القلیل ترجمہ: خلاص کے ساتھ عمل
کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوگا ۔(نوادر الاصول ،اصل السادس ،
ج1،ص:44، حدیث نمبر:45،بتغیر قلیل)
(4) اللہ کی مدد کا ذریعہ: حضرت سیدنا
مصعب بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد ماجد حضرت سیدنا سعد بن
ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کو گمان ہوا کہ انہیں مالدار صحابہ پر فضیلت حاصل ہے
تو مصطفی جان رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انما نصر الله تعالى هذه الامة بضعافائها ودعوتهم
واخلاصهم وصلاتهمترجمہ: اللہ تعالی نے اس امت کی ان کے ناتوانوں ان کی
دعا اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد فرمائی ۔(نسائی، کتاب الجہاد، باب الاستنصار
بالضعیف، ص:518 ، حدیث نمبر:3175)
(5) دل خیانت نہیں کرتا: ثلاثه لا يغل عليهن قلب رجل اخلاص العمل لله والنصيحه للولاة ولزوم
الجماعة ترجمہ: تین باتیں ایسی ہیں جن پر بندہ مومن کا دل خیانت
نہیں کرتا (1) خالص اللہ کے لیے عمل کرنا (2) حکمرانوں کی خیر خواہی (3)(مسلمانوں
کی) جماعت کو لازم پکڑنا۔(سنن ابن ماجہ، کتاب السنۃ، باب من بلغ علما ،ج:1 ، ص:
151، حدیث نمبر: 230)
دعا ہے اللہ عزوجل ہمیں اخلاص جیسی عظیم نعمت سے مالامال
فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ۔
Dawateislami