لیاقت
علی عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ، کراچی،پاکستان)
اِخلاص کی تعریف:’’کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی
حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔‘‘ (نجات دلانے والے اعمال کی
معلومات،صفحہ۲۵)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمۂ کنزالایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ
اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں
اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (البینہ:5)
اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ
کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے
متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔(نجات دلانے
والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)
اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:حضورنبی
کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا
عمل بھی تمہیں کافی ہے۔‘‘ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)
اِخلاص کاحکم:کسی عمل میں فقط اِخلاص
ہونے یااس کے ساتھ کسی اور غرض کی آمیزش ہونے کے اعتبار سے اَعمال کی تین صورتیں
ہیں: (۱) جس عمل
سے مقصود صرف ریاکاری ہو اس کا قطعی طور پر گناہ ہونا اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی
ناراضی اور عذاب کا سبب ہے۔ (۲) جو
عمل خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہوگا تو وہ رِضائے الٰہی اور اجرو ثواب کا
سبب ہے۔ (۳) جوعمل
خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے نہ ہو بلکہ اس میں ریاکاری اور نفسانی اَغراض کی
آمیزش ہو تو قوت کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں ہیں: اگر رِضائے اِلٰہی اور دوسری
غرض دونوں قوت میں برابر ہو ں تو دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہوکر ساقط ہوجائیں گی
اور اس عمل کا نہ تو ثواب ہوگا نہ ہی عذاب اوراگر ریاکی قوت زیادہ ہوتو یہ عمل کچھ
نفع نہ دے گا بلکہ الٹا نقصان اور عذاب کو لازم کرے گا، البتہ اس میں رِضائے اِلٰہی
کا جتنا عنصر ہوگا اتنا عذاب میں کمی ہوجائے گی اوراِس عمل کا عذاب اُس عمل کے
عذاب سے ہلکا ہوگاجو خالص ریاکاری کے ساتھ ہواور جس میں رِضائے اِلٰہی بالکل نہ ہو
اور اگر رِضائے اِلٰہی کا عنصر غالب ہو تو یہ جس قدر قوی ہوگا اُسی قدر ثواب زیادہ
ہوگااور جتنی ریا ہوگی اتنا ثواب کم ہوجائے گا۔ (نجات دلانے والے اعمال کی
معلومات،صفحہ۲۶،۲۷)
اِخلاص پیدا کرنے کے (7)طریقے:
(1)دُنیوی اَغراض کو دُور کیجئے:ایسی
دُنیوی اَغراض جن سے مقصود آخرت کی تیاری ومُعاوَنت نہ ہو اگر ہر عمل سے اُن کو
دُور کردیا جائے اور صرف رِضائے اِلٰہی پیش نظر ہو تو اَعمال میں رِیاکاری یعنی
دِکھاوے کے اِمکانات کا فی کم ہوجاتے ہیں۔البتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں
کا عسرت وتنگی کے ایام میں قرآنی سورتیں و وظائف وغیرہ اس نیت سے پڑھنا کہ اللہ
تَعَالٰی انہیں قناعت عطا کرے اور اتنی مقدار میں روزی عطا کرے جس سے عبادتِ الٰہی
بجالاسکیں اور درس وتدریس وغیرہ کی قوت بحال رہے تو اِس طرح کا اِرادہ نیک اِرادہ
ہے دنیا کا اِرادہ نہیں۔
(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے:کیونکہ
اَعمال وہی قبول ہوں گے جو ریاکاری سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ کیے ہوں گے اور
اعمال کو ریاکاری جیسی موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ہے کہ بندہ خود
کو ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈراتا رہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب
ہوگا اتنا ہی عمل میں ریاکاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت نصیب ہوگی۔
(3)نفسانی خواہشات کو ختم کیجیے:کہ
اِخلاص میں بہت بڑی رکاوٹ نفسانی خواہشات ہیں کیوں کہ ہر عمل پرچند تعریفی کلمات
سن کر نفس بے حد سکون محسوس کرتا ہے اور یہی سکون نفس کو ریاکاری پر اُبھارتا ہے
جو اِخلاص کی دشمن ہے اور یوں اُخروی فائدے کے لیے کیا جانے والا عمل نقصان کا سبب
بن جاتا ہے۔لہٰذا نفسانی خواہشات پر قابو پائیے اور اَعمال میں اِخلاص حاصل کیجئے۔
(4)خلوت و جلوت میں یکساں عمل کیجیے:نفس
لوگوں کے سامنے تو مشقت سے بھرپور عبادت کرنے پر رضامند ہوجاتا ہے کیوں کہ اِس طرح
اُسےشہرت، تعریف اور واہ واہ جیسے میٹھے زہر ملتے ہیں، لیکن تنہائی میں رِضائے
الٰہی کے لیے خشوع وخضوع کے ساتھ دو رکعت پڑھنا اُس کے نفس پر نہایت گراں ہے۔خلوت
و جلوت کا یہ تضاد بندے کے عمل سے اِخلاص کو ختم کردیتا ہے۔ لہٰذا اپنے اَعمال میں
اخلاص پیدا کرنے کے لیے خلوت وجلوت دونوں میں رضائے الٰہی کی نیت سے خشوع وخضوع کے
ساتھ نیک اَعمال بجا لائیے۔
(6)اپنے گناہوں کو یاد رکھیے:عموماً
لوگ اپنی نیکیوں کو یاد رکھتے اور گناہوں کو بھول جاتے ہیں جس سے وہ ریاکاری اور
خود پسندی جیسی موذی بیمار ی میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو اِخلاص کی سخت دشمن ہیں،
لہٰذا اپنے گناہوں کو یاد رکھیے، نفس کو اُن پر ملامت کرتے رہیے کہ تو فلاں فلاں
گناہوں کا مجموعہ ہے پھر کسی نیک عمل پر اِترانے کا کیا معنی؟ یوں کافی حد تک اسے
تکبر وریاکاری سے دور رکھنے میں معاونت ملے گی اور اعمال میں اخلاص پیدا کرنے کی
راہ ہموار ہوگی۔
Dawateislami