دنیا میں انسان کی پہچان اس کے اوصاف، کردار اور نیت سے
ہوتی ہے۔ اگر وہ کوئی کام اخلاص سے کرے گا تو لوگوں میں اس کا کردار اچھا رہے گا۔
اخلاص ایک ایسی صفت ہے جو ریاکاری اور خود غرضی جیسی چیزوں سے پاک ہے۔ اگر عمل میں
اخلاص ہوگا تو اللہ کے نزدیک وہ عمل زیادہ پسندیدہ ہوگا۔
اخلاص کی تعریف:’’کسی
بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔‘‘(نجات
دلانے والے اعمال کی معلومات، صفحہ ۲۵)
اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی ہے:حضور
نبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا:’’اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا
عمل بھی تمہیں کافی ہے۔‘‘(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات، صفحہ ۲۶)
اخلاص کے پانچ حروف کی نسبت سے پانچ اہم نکات:
اپنے گناہوں کو یاد رکھیے:
عموماً لوگ اپنی نیکیوں کو یاد رکھتے ہیں اور گناہوں کو بھول جاتے ہیں، جس سے وہ ریاکاری
میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ ریاکاری اخلاص کی سخت دشمن ہے۔
خلوت اور جلوت میں یکساں عمل کیجئے: انسان
لوگوں کے سامنے تو مشقت والا عمل بھی کر لیتا ہے کیوں کہ اسے شہرت چاہیے ہوتی ہے،
لیکن تنہائی میں اخلاص کے ساتھ دو رکعت پڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
نفس پر قابو: اگر نفس پر قابو ہوگا تو عمل میں
اخلاص پیدا ہوگا، کیونکہ نفس اپنی تعریف سن کر بے حد سکون پاتا ہے جس سے انسان کے
عمل میں ریاکاری آجاتی ہے۔
نیکیوں کو چھپائیں: اپنی
نیکیوں کو چھپائیں ورنہ نفس ریاکاری، حبِ مدح (تعریف کی محبت) اور طلبِ شہرت میں
مبتلا ہو جائے گا جس سے عمل میں اخلاص نہیں رہے گا۔
اخلاص کے فضائل: اخلاص کے فضائل کو ہمیشہ
پیشِ نظر رکھیں، (مثلاً) جو دعا اخلاص سے مانگی جائے وہ جلد قبول ہوتی ہے۔
Dawateislami