وقاص
صدیقی (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان )
اسلامی تعلیمات میں ”اخلاص“ ایک ایسی بنیادی صفت ہے جس
کے بغیر انسان کا کوئی بھی عمل، خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کے
ہاں مقبول نہیں ہوتا۔ اخلاص کے لغوی معنی "خالص کرنا" یا "پاک
کرنا" کے ہیں، جبکہ شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب ہے کہ ہر نیک کام صرف اور صرف
اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے، اس میں شہرت، دکھاوا یا دنیاوی مفاد شامل نہ ہو۔
اخلاص دل کی اس کیفیت کا نام ہے جو انسان کے ظاہر اور باطن کو ایک کر دیتی ہے۔
اخلاص کی اہمیت:قرآن و
حدیث میں اخلاص پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ترجمہ کنز
العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین
کو خالص کرتے ہوئے ، ہر باطل سے جدا ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ
سیدھا دین ہے۔ (سورۃ البینہ: 5)
اخلاص وہ روح ہے جو اعمال کے مردہ جسم میں زندگی پھونکتی
ہے۔ اگر اخلاص نہیں تو بڑے سے بڑا عمل بھی رائیگاں چلا جاتا ہے۔
اعمال کا دارومدار نیت پر ہے:حضرت
عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اعمال کا دارومدار نیتوں
پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔" (صحیح بخاری: 1)
اللہ دلوں اور نیتوں کو دیکھتا ہے:حضرت
ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں
اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا
ہے۔" (صحیح مسلم: 2564)
بغیر اخلاص کے جہاد، علم اور سخاوت کا انجام:ایک
طویل حدیث میں بیان ہوا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے ایک شہید، ایک عالم اور ایک
سخی کا فیصلہ ہوگا، لیکن انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا کیونکہ ان کی نیت اللہ کی
رضا نہیں بلکہ دنیا میں "بہادر"، "عالم" اور "سخی"
کہلوانا تھا۔ (صحیح مسلم: 1905)
خالص عمل قبول ہو گا:نبی کریم
ﷺ نے فرمایا: "بے شک اللہ عزوجل صرف وہی عمل قبول فرماتا ہے جو خالص اس کے لیے
ہو اور اس سے اس کی رضا مقصود ہو۔" (سنن نسائی: 3140)
تنگدستی میں نجات کا ذریعہ:غار میں پھنس جانے والے تین
افراد کا قصہ (واقعہ اصحابِ غار) ثابت کرتا ہے کہ جب انہوں نے اپنے خالص اعمال کا
واسطہ دیا تو اللہ نے ان کی مصیبت دور کر دی۔ (صحیح بخاری: 2272)
ریاکاری کا وبال:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے
سنانے کے لیے (نیکی) کی، اللہ اسے (لوگوں کو) سنا
دے گا اور جس نے دکھانے کے لیے (نیکی) کی، اللہ اس کا
دکھاوا ظاہر کر دے گا۔" (صحیح بخاری: 6499)
اخلاص اور قلبی سکون:نبی کریم
ﷺ نے فرمایا: "تین چیزیں ایسی ہیں جن پر مومن کا دل خیانت نہیں کرتا: عمل کو
خالص اللہ کے لیے کرنا، حکمرانوں کی خیر خواہی اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ
رہنا۔" (سنن ابن ماجہ: 3056)
اخلاص کے ثمرات:جو شخص
اپنی زندگی میں اخلاص پیدا کر لیتا ہے، اسے دنیا میں قلبی اطمینان نصیب ہوتا ہے
اور آخرت میں بلندیِ درجات۔ مخلص انسان لوگوں کی تعریف یا تنقید سے بے نیاز ہو کر
صرف اپنے رب کو راضی کرنے میں مگن رہتا ہے۔ اخلاص ہی وہ ڈھال ہے جو انسان کو شیطان
کے وار سے بچاتی ہے، جیسا کہ شیطان نے خود کہا تھا کہ ترجمہ کنز العرفان:اور ضرور
ان سب کو گمراہ کردوں گا۔سوائے ان کے جوان میں سے تیرے چنے ہوئے بندے ہیں
۔(الحجر:39،40)
مختصر یہ کہ اخلاص دین کی جڑ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے
ہر قول و فعل کا جائزہ لیں اور اسے دکھاوے کی آمیزش سے پاک رکھیں۔ اللہ تعالیٰ سے
دعا ہے کہ وہ ہمیں "مخلصین" میں شامل فرمائے اور ہمارے ٹوٹے پھوٹے اعمال
کو اپنی رضا کے لیے قبول فرمائےآمین۔
Dawateislami