اخلاص دینِ اسلام کی اساس اور عبادات کی روح ہے۔ بندہ جب
اپنے تمام اعمال، اقوال اور نیتوں میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنا لیتا ہے
تو اس کا عمل خواہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، اللہ کے نزدیک عظیم قدر و قیمت اختیار
کر لیتا ہے۔ اخلاص دل کو ریا، نمود و نمائش اور خود غرضی سے پاک کرتا ہے اور بندے
کو خلوصِ نیت کے ساتھ حق پر قائم رکھتا ہے۔ بغیر اخلاص کے بڑے سے بڑا عمل بھی بے
وزن ہو جاتا ہے، جبکہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا چھوٹا عمل نجات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہی
وجہ ہے کہ اخلاص کو تمام اعمال کی قبولیت کی کنجی قرار دیا گیا ہے۔
اخلاص کا مفہوم :انسان اپنی ہر عبادت اور
نیک عمل میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصود بنائے، نہ لوگوں کی تعریف مطلوب ہو
اور نہ شہرت کی خواہش دل میں ہو۔ مخلص بندہ اپنے اعمال کو خالصتاً اللہ کے لیے
انجام دیتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اصل قبولیت اسی نیت سے وابستہ ہے۔
اخلاص کی اہم علامت : انسان
کا ظاہر اور باطن یکساں ہو وہ تنہائی میں بھی ویسا ہی عمل کرے جیسا لوگوں کے سامنے
کرتا ہے۔ جب بندے کا دل، نیت اور عمل ایک ہی رخ پر ہوں اور اس کے افعال میں دکھاوا
یا دو رُخی نہ ہو، تو یہی حقیقی اخلاص کہلاتا ہے۔
اصلاح، اخلاص اور اعمال کی قبولیت :حضرت
ابو ہریرہ فرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی قدر و قیمت اس کے ظاہری حسن،
شکل و صورت یا مال و دولت سے نہیں ہوتی، بلکہ اصل اہمیت اس کے دل کی کیفیت اور اس
کے اعمال کی ہوتی ہے۔ جس کا دل پاک، نیت خالص اور عمل نیک ہو وہ اللہ کے ہاں قابلِ
قبول ہے، چاہے وہ ظاہری اعتبار سے کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔(صحیح مسلم، كتاب
البر والصلۃ والادب، رقم : 6543)
اس حدیث پاک سے
اخلاص کی اہمیت کو جانتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی کے ہاں اخلاص کی کس قدر اہمیت
ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمربیان کرتے ہیں :آپ ﷺ نے فرمایا کہ
پچھلے زمانے میں تین آدمی سفر میں تھے۔ رات کے وقت بارش اور اندھیرے سے بچنے کے لیے
وہ ایک پہاڑی غار میں داخل ہوئے۔ اچانک پہاڑ سے ایک بڑی چٹان گری اور غار کا منہ
بند ہو گیا۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ اب عام تدبیر سے نجات ممکن نہیں، اس لیے انہوں
نے آپس میں مشورہ کیا کہ صرف اللہ تعالیٰ سے اپنے خالص نیک اعمال کا وسیلہ دے کر
دعا کی جائے۔پہلے شخص نے اللہ کے حضور اپنی دعا میں عرض کیا کہ وہ اپنے بوڑھے والدین
کی بے حد خدمت کرتا تھا۔ ایک دن دیر سے گھر آیا تو والدین سو چکے تھے۔ اس کے بچے
بھوک سے رو رہے تھے مگر اس نے والدین کو جگانا مناسب نہ سمجھا اور نہ ہی ان سے
پہلے کسی اور کو دودھ پلایا۔ وہ ساری رات دودھ لے کر والدین کے سرہانے کھڑا رہا یہاں
تک کہ صبح ہوئی۔ اس نے عرض کیا کہ اگر یہ عمل صرف تیری رضا کے لیے تھا تو ہمیں اس
مصیبت سے نجات دے۔ اس دعا سے چٹان کچھ ہٹ گئی، مگر راستہ ابھی مکمل نہ کھلا۔دوسرے
شخص نے دعا کی کہ وہ اپنے چچا کی بیٹی سے بہت محبت کرتا تھا اور ایک موقع پر گناہ
کا ارادہ بھی کر بیٹھا، مگر جب وہ عورت اللہ کا خوف دلا کر رک گئی تو اس نے اپنی
خواہش پر قابو پا لیا، حالانکہ وہ شدید رغبت رکھتا تھا، اور جو رقم دی تھی وہ بھی
واپس نہ لی۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ اگر اس نے یہ سب صرف اللہ کی رضا کے لیے
چھوڑا تھا تو نجات عطا فرمائے۔ اس دعا سے چٹان مزید سرک گئی، لیکن اب بھی نکلنے کی
جگہ پوری نہ بنی۔تیسرے شخص نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اس نے ایک مزدور کی
اجرت محفوظ رکھ کر تجارت میں لگا دی تھی۔ وقت کے ساتھ وہ رقم بہت زیادہ ہو گئی۔ جب
مزدور واپس آیا تو اس نے پوری جمع شدہ دولت بغیر کسی کمی کے اس کے حوالے کر دی۔ اس
نے دعا کی کہ اگر یہ عمل خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات
دے۔ اس دعا کے نتیجے میں چٹان پوری طرح ہٹ گئی اور تینوں افراد بحفاظت غار سے نکل
آئے۔ (بخاری،کتاب الانبیاءباب حدیث الغار،2/464حدیث :3465)
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے
کہ خالص نیت سے کیے گئے نیک اعمال، والدین کی خدمت، گناہ سے بچنا اور امانت و دیانت
داری اللہ کے ہاں بہت قدر و قیمت رکھتے ہیں، اور ایسے اعمال سخت ترین حالات میں بھی
اللہ کی مدد کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
Dawateislami