عبادت کوئی بھی ہو اس میں اخلاص نہایت ضروری چیز ہے یعنی محض رضائے الٰہی کے لیے عمل کرنا ضرور ہے۔ دکھاوے کے طور پر عمل کرنا بالاجماع حرام ہے، بلکہ حدیث میں ریا کو شرک اصغر فرمایا اخلاص ہی وہ چیز ہے کہ اس پر ثواب مرتب ہوتا ہے، ہوسکتا ہے کہ عمل صحیح نہ ہو مگر جب اخلاص کے ساتھ کیا گیا ہو تو اس پر ثواب مرتب ہو مثلاً لاعلمی میں   کسی نے نجس پانی سے وضو کیا اور نماز پڑھ لی اگرچہ یہ نماز صحیح نہ ہوئی کہ صحت کی شرط طہارت تھی وہ نہیں   پائی گئی مگر اس نے صدقِ نیت اور اخلاص کے ساتھ پڑھی ہے تو ثواب کا ترتب ہے یعنی اس نماز پر ثواب پائے گا مگر جبکہ بعد میں معلوم ہوگیا کہ ناپاک پانی سے وضو کیا تھا تو وہ مطالبہ جو اس کے ذمہ ہے ساقط نہ ہوگا، وہ بدستور قائم رہے گا اس کو ادا کرنا ہوگا۔

1)) گناہوں کی بخشش : روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول  الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔

شرح حدیث :احتساب حسبٌ سے بنا،بمعنی گمان کرنا اور سمجھنا،احتساب کے معنی ہیں ثواب طلب کرنا یعنی جس روزہ کے ساتھ ایمان اور اخلاص جمع ہوجائیں اسکا نفع تو بے شمار ہے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح  جلد:3 ، حدیث نمبر:1958)

((2 اخلاص کا کلمہ :روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ آپ نے فرمایاسبحان  الله ساری مخلوق کی عبادت ہے اورالحمد لله کلمہ شکر ہے اورلا الہ الا الله اخلاص کا کلمہ ہے اور الله اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی فضا بھردیتا ہے اور جب بندہ کہتا ہےلاحول ولا قوۃ الا بالله تورب تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ مطیع ہوگیا اور اپنے کو میرے سپردکردیا۔

شرح حدیث :لاالہ الا الله سے مراد پورا کلمہ ہے،اخلاص سے مراد ہے چھٹکارا اور رہائی یعنی اس کلمہ طیبہ کی برکت سے بندہ دنیا میں کفر سے اور آخرت میں دوزخ سے رہائی پاتاہے یا اخلاص ریاء کا مقابل ہے،بمعنی خلوص نیت یعنی یہ کلمہ اگر خلوص نیت سے پڑھا جائے تو مفید ہے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح  جلد:3 ، حدیث نمبر:2322)

(3) اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔‘‘ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ24)

(4)اس کے لیے خوش خبری ہے:حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جو اپنی عبادت اور دعا کو اللہ پاک کے لیے خالص رکھتا ہے، اس کی آنکھیں جو بھی دیکھیں وہ دیکھنا اس کے دل کو مشغول نہیں کرتا اور اس کے کان جو سنیں وہ سننا اسے اللہ پاک کا ذکر نہیں بھلاتا اور دوسروں کو عطا کی گئی نعمتیں اسے غمگین نہیں کرتیں۔(اخلاص اور نیت،ص،10،مکتبہ افکار رضا)

(5)مقبول عمل قلیل نہیں ہوتا:حضرت عبد خیر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا فرمان عالیشان ہے : تقویٰ کے ساتھ کیا گیا کوئی عمل قلیل نہیں ہوتا اور جو مقبول ہو جائے وہ بھلا قلیل کیسے ہو سکتا ہے۔(اخلاص اور نیت،ص،10،مکتبہ افکار رضا)