اخلاص کی تعریف: ہر نیکی، عبادت یا عمل
صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرنا، بغیر ریا، شہرت یا دنیاوی فائدے کی نیت کے۔ یہ
دل کی ایسی کیفیت ہے جو عمل کو خالص بناتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اخلاص کے
بارے ارشاد فرماتا ہے : اَلَا
لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُترجمہ کنز الایمان: ہاں خالص اللہ
ہی کی بندگی ہے۔ ( پارہ 23،سورۃالرمز،آیۃ
3)
رسوائی سے بچ گیا: منقول
ہے کہ ایک شخص عورتوں کی شکل و صورت بنا کر نکلتا اور جہاں شادی یا مرگ کی وجہ سے
عورتیں جمع ہوتیں وہاں جاتا ،ایک دن اتفاق سے وہ عورتوں کے مجمع میں گیا وہاں کسی
عورت کا ایک موتی چوری ہوگیا تو لوگوں نے شور مچایا کہ دروازہ بند کردو تا کہ ہم
تلاشی لیں ،وہ ایک ایک کی تلاشی لے رہے تھے یہاں تک کہ اس شخص کی اور اس کے ساتھ
ایک عورت کی باری آگئی،اس شخص نے اخلاص کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں دعا کی:اے اللہ
عَزَّ وَجَلَّ!اگرآج میں اس رُسوائی سے بچ گیاتوآئندہ کبھی ایسا کام نہیں کروں
گا۔چنانچہ وہ موتی اس عورت کے پاس سے برآمد ہوگیا توانہوں نے بآوازِ بلند
کہا:ہمیں موتی مل گیا ہے اب عورتوں کی تلاشی نہ لی جائے۔ (احیاء علوم حصہ 5 صفحہ
نمبر 261)
امیر
المومنین حضرت سیدنا على رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قلت عمل کی فکر نہ کرو بلکہ
قبولیت عمل کی فکر کرو کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی
الله عنہ سےفرمايا: اخلص العمل جری عند
القليل یعنی اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل
بھی تمہیں کافی ہو گا۔ (نوادر الاصول، الاصل السادس، 44/1، حدیث: 45 ، بتغیر قلیل)
اخلاص ایک
راز ہے :حضرت سیدنا حسن بصری علیہ الرحمۃ الله القوى فرماتے ہیں:
رسول اللہ صل اللهُ تَعَالٰی عَلَيْہ وَسَلَّمِ نے ارشاد فرمایا الله عزوجل ارشاد
فرماتا ہے: اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں کے
دلوں میں ودیعت رکھتا ہوں۔ (فردوس الاخبار، 145/2 ، حدیث : 4539)
اخلاص
کے ذریعے مدد :حضرت سیدنا مصعب بن سعد رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں :
میرے والد ماجد حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو گمان ہوا کہ انہیں مال
دار صحابہ پر فضیلت حاصل ہے تو مصطفے جان رحمت صلی اللہ تَعَالٰی علیہ وَالہ وسلم
نے ارشاد فرمايا: اللہ تعالیٰ نےاس امت کی ان کے ناتوانوں، ان کی دعاء اخلاص اور
نماز کے ذریعے مدد فرمائی ہے۔(نسائی، کتاب الجهاد، باب الستنصار بالضعيف، ص518 ،
حدیث: 3175)
اخلاص ایسا وصف ہے کہ جس کے فوائد و ثمرات بہت زیادہ ہیں
جن کا تعلق دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی ہے اللہ پاک ہمیں اخلاص جیسی نعمت
عطا فرمائے آمین۔
Dawateislami