عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ صَخْرٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: إِنَّ اللہَ لَا یَنْظُرُ إِلٰی أَجْسَامِِکُمْ وَلَا إِلٰی صُوَرِکُمْ وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِکُمْ ترجمہ حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہ عبدالرحمن بن صَخْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ عزَّوَجَلَّ نہ تو تمہارے جسموں کی طرف نظرکرتاہے نہ ہی تمہاری صورتوں کی طرف بلکہ وہ تو تمہارے دِلوں کو دیکھتا ہے ۔( مسلم، کتاب البر والصلۃ والاداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ، ص ۱۳۸۷ ، حدیث: ۲۵۶۴)

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی مِرقاۃ میں اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :یعنی اللہ عزَّوَجَلَّ نظراعتباری سے تمہاری صورتوں کی طرف نہیں دیکھتا کیونکہ اس کے ہاں تمہاری خوبصورتی وبد صورتی کاکوئی اعتبار نہیں اور نہ وہ تمہارے اَموال کی طرف نظر فرماتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک ان کی قِلَّت و کَثْرَت(کمی و زیادتی) کا کوئی اعتبار نہیں ،بلکہ دلوں میں موجود یقین،صِدق،اِخلاص،رِیا کاارادہ،شہرت اور بقیہ اَخلاقِ حَسَنَہ(اچھے اخلاق) اوراَخلاقِ سَیِّئَہ (برے اخلاق) کو دیکھتا ہے اور تمہارے اَعمال دیکھتا ہے یعنی ان کی اچھی بُری نیت کو اور پھر اس کے مطابق تمہیں اُن اعمال کی جزا عطا فرمائے گا۔ نِہَایَہ میں ہے کہ یہاں ’’نظر ‘‘کامعنی پسندیدگی یارحمت ہے اس لئے کہ کسی پر نظر رکھنا محبت کی دلیل ہے جب کہ ترکِ نظر( نظر ہٹا لینا) غضب ونفرت کی علامت ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعۃ، ۹/۱۷۴، تحت الحدیث:۵۳۱۴)

علَّا مہ نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں :حد یث میں فرمایا گیا کہ’’اللہ عزَّوَجَلَّ تمہاری صورتوں کی طرف نظر نہیں فرماتا بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے‘ ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقویٰ صرف ظاہری اعمال سے حاصل نہیں ہوتابلکہ دل میں اللہ عزَّوَجَلَّ کی عظمت ،اس کے ڈر اور اس کی طرف متوجہ ہونے سے جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اس سے حاصل ہوتاہے ۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب البر والصلۃ والاداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ، ۸/۱۲۱، الجزء السادس عشر)

ظاہر وباطن دونوں کادرست ہونا ضروری ہے: مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :حدیثِ مذکور میں ’’دیکھنے ‘‘سے مراد ’’کرم ومحبت سے دیکھنا ہے‘‘ مطلب یہ ہے کہ وہ تمہارے دلوں کو بھی دیکھتا ہے، جب اچھی صورتیں اچھی سیرت سے خالی ہوں ، ظاہر باطن سے خالی ہو(یعنی صرف ظاہر اچھا ہو اور باطن برا ہو ) مال صَدَقہ وخیرات سے خالی ہو، تو ربّ تعالیٰ اسے نظرِ رحمت سے نہیں د یکھتا، ا س حدیث کا یہ مطلب بھی نہیں کہ صرف اعمال اچھے کرو اور صورت بُری بناؤ بلکہ صورت و سیرت دونوں ہی اچھی( یعنی شریعت کے مطابق ) ہونی چاہئیں۔ کوئی شریف آدمی گندے برتن میں اچھا کھانا نہیں کھاتا، رب تعالیٰ صورت بگاڑنے والوں کے اچھے اعمال سے بھی خوش نہیں ہوتا۔اگرصرف صورت اچھی ہو اورکردار برا ہو تو بھی نقصان اور اگر باطنی حالت درست ہو ظاہری حالت شریعت کے خلاف ہوتب بھی نقصان ۔ (ملخص از مراٰۃ المناجیح ، ۷ /۱۲۸)

بُری نِیَّت اعمال کو برباد کر دیتی ہے: میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! انسان کا دل اللہ عزَّوَجَلَّ کی توجہ خاص کامرکز ہے ۔ اس کی بارگاہ میں مقام ومرتبہ اور ثواب اس وقت تک نہیں ملتا جب تک دِلی کیفیت درست نہ ہو۔ اس لئے اپنے دل کوبُری صِفات سے پاک وصاف اوراچھے اخلاق واچھی سوچ سے معمور رکھنا چاہئے، وہاں دلی کیفیت پر فیصلے ہوتے ہیں ،اگر نِیَّت درست نہیں تو عمل بے کار وباعثِ وَبال ہے۔ چنانچہ

تین رِیا کاروں کا اَنجام: نبیوں کے سلطان ،رحمتِ عالَمیان ص ﷺ نے ارشاد فرمایا :قیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے لوگوں سے سوال کیا جائے گا،ایک وہ جو راہِ خدا میں قتل کیا گیا تھا ،اللہ عزَّوَجَلَّ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا اور وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھراللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا:’’ تو نے ان نعمتوں کے شکر میں کیا کیا ؟‘‘ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے تیری رضا کے لئے جہاد کیا حتی کہ شہید کر دیا گیا۔اللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا :تو جھوٹ کہتا ہے، بلکہ تو یہ چاہتا تھا کہ کہا جائے :فلاں شخص بہت بہادرہے، تو یہ بات (دنیا میں ) کہہ لی گئی۔ پھر اسے جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا اور منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ دوسرا وہ شخص کہ جس نے علم سیکھا اور سکھایا اور قراٰن کی تلاوت کی،اللہ عزَّوَجَلَّ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا اور وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھر اللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا :تجھے جو علم عطا ہوا اس کے بارے میں تیرا عمل کیسا رہا؟ وہ عرض کرے گا :اے میرےرب عزَّوَجَلَّ ! میں نے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور تیری رضا کے لئے قراٰن کی تلاوت کی۔اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا:تو نے جھوٹ کہا ہے بلکہ تو نے علم اس لئے سیکھا تاکہ لوگ کہیں کہ فلاں شخص عالِم ہے اور تو نے قراٰن اس لئے پڑھا تاکہ کہا جائے کہ فلاں شخص قاری ہے، یہ بات (دنیا میں ) کہہ لی گئی ،پھر اسے جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ تیسرا شخص وہ ہوگا جسےاللہ عزَّوَجَلَّ نے بہت وُسعت اور کثیر مال عطا کیا تھا،اللہ عزَّوَجَلَّ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھراللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا: تو نے اس کے شکر میں کیا کیا ؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب میں نے کوئی ایسا موقع نہ چھوڑا جس میں تجھے خرچ کرنا پسند ہو اور میں نے تیری رضا کے لئے خرچ نہ کیا ہو۔ اللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا: تو جھوٹ کہتا ہے بلکہ تو یہ چاہتا تھا کہ کہا جائے: فلاں شخص بہت سخی ہے پس (دنیا میں)کہہ لیا گیا، پھر اسے جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا اور منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب من قاتل للریاء والسمعۃ استحق النار،ص ۱۰۵۵، حدیث :۱۹۰۵)

حضرتِ سَیِّدُناامیر مُعَاوِیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی گِریَہ وزَارِی: جب یہ حدیث ِپاک حضرتِ سَیِّدُناامیر مُعَاوِیہ َرضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے بیان کی گئی توآپ اتنا روئے اتنا روئے ،قریب تھا آپ کی رُوح پرواز کر جاتی، پھر فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّ نے سچ فرمایاہے :مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ(۱۵) ترجمۂ کنزالایمان: جودنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہو ہم اس میں ان کا پورا پھل دے دیں گے اور اس میں کمی نہ دیں گے۔(پ۱۲، ہود :۱۵) (جامع العلوم والحکم من خمسین الخ، تحت الحدیث الاول،ص۲۷)

اللہ عزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحْمَت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔

معاملہ نہایت نازک و تشویشناک ہے کہ ریا کار شہید کی جان بھی گئی اور آخرت بھی برباد ہوئی اور بروز قیامت اس سے کہا جائے گاکہ ’’جہاد سے تیرا مقصوداسلام کی سر بلندی نہیں بلکہ اپنی تعریف تھی، لہٰذا دنیا میں تیری خوب واہ واہ ہوگئی اور تجھے تیرے جہاد کا بدلہ دنیا میں مل گیا‘‘ اسی طرح عالِم نے علمِ دین سیکھنے میں کتنی مشقتیں برداشت کیں سب رائیگاں گئیں اور ایسی مصیبت ملی کہ سب سے پہلے جہنم میں نہایت ذِلّت کے ساتھ گھسیٹ کر پھینکا جائے گا، جہنم کی گہرائی آسمان و زمین کے فاصلہ سے کروڑوں گنا زیادہ ہے،اللہ عزَّوَجَلَّ کی پناہ! عالِم سے کہا جائے گا کہ تیری یہ ساری محنت خدمت دین کے لیے نہ تھی بلکہ عِلْم کے ذریعہ عزت و مال کمانے کے لئے تھی وہ تجھے دنیامیں حاصل ہوگئے اب ہم سے کیا چاہتا ہے ،اسی طرح ریا کار سخی کا حال ہوگا کہ مال بھی گیا اور جہنم کا عذاب بھی مقدَّر ہوا ، اگرچہ عالمِ دین، شہید اورسخی کا مقام بہت بلند ہے لیکن جب نِیَّت میں خرابی ہو تو سرَا سر خسارہ ہے حدیثِ مذکورمیں تینوں کو عمل میں اخلاص نہ ہو نے کی وجہ سے جہنم میں ڈال دیا گیا۔ ( مراٰۃ المناجیح، ۱/ ۱۹۱ -۱۹۲، ملخصاً)

اس حدیث پاک کو دیکھتے ہوئے بعض علمائے کرام رَحِمَہم اللہ السَّلام نے اپنی کتابوں میں اپنا نام بھی نہ لکھا اور جنہوں نے لکھا ہے وہ نامْوَری ومشہوری کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی دعا حاصل کرنے کے لیے لکھا ۔ ( مراٰۃُ المناجیح ، ۱/۱۹۱ )

اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے مُخْلِص بندوں کے صَدْقے ہمیں اِخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے اور ریا کاری کی تباہ کاریوں سے ہماری حفاظت فرمائے ، ہر کام اپنی رضا کے لئے کرنے کی توفیق عطا فرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنَ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَالِہٖ وَسَلَّم۔

میرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو کر اخلاص ایسا عطا یا الٰہی!