اخلاص کی تعریف: کسی بھی نیک عمل میں رضائے الہٰی حاصل کرنے کا نام اخلاص ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ : وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ، ہر باطل سے جدا ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ۳۰،سوره البينہ:5)

اس آیت مبارکہ میں اخلاص کے ساتھ شرک و نفاق سے دور رہ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع پیروکار ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

اخلاص یہ ہے کہ تمہارا ہر عمل صرف اور صرف الله عزوجل کی رضا کے لیے ہو اور اس عمل کے سبب تم لوگوں کی تعریف و توصیف سے راحت محسوس کرو نہ ہی تمہیں ان کی مذمت کی پرواہ ہو یاد رکھو!ریا کاری مخلوق کو بڑا سمجھنے کے سبب پیدا ہوتی ہے اس کا علاج یہ ہے کہ تم لوگوں کو قدرت الٰہی کے سامنے مسخر (تابع) خیال کرو اور دکھاوے سے بچنے کی خاطر انہیں جمادات (پتھروں) جیسا سمجھو کہ یہ ان کی طرح نفع ونقصان پہنچانے پر قادر نہیں کیونکہ جب تک تم لوگوں کو نفع ونقصان پر قادر سمجھتے رہو گے ریا کاری جیسے خطرناک مرض سے نہیں بچ سکتے ۔

(1) اور حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتالیکن تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والادب، رقم : 6543)

وعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الْأَجْرَ وَالذِّكْرَ، مَالَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُ فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهترجمہ: حضرت ابوامامہ باہلی روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا، آپ ہمیں اجر و شہرت کے لیے لڑنے والے کے متعلق بتائیں کہ اسے کیا ملے گا؟ تو رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:اسے کچھ نہیں ملے گا۔ اس آدمی نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی آپ نے تینوں مرتبہ یہی ارشاد فرمایا کہ اسے کچھ نہیں ملے گا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایااللہ صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جو خالص ہو اور اسی کی رضا کے لیے کیا گیا ہو۔(سنن النسائی، كتاب الجهاد باب من غزا يلتمس الأجر والذكر رقم : 3140)

(3)حضور نبی کریم علیہ أَفْضَلُ الصَّلوةِ وَالتَّسْلیم نے حضرت معاذ بن جبل رَضِی اللَّهُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمايا: "اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات ، صفحہ ۲۶)

اخلاص کا حکم :کسی عمل میں فقط اخلاص ہونے یا اس کے ساتھ کسی اور غرض کی امیزش ہونے کے اعتبار سے اعمال کی تین صورتیں :(1) جس عمل سے مقصود صرف ریاکاری ہو اس کا قطعی طور پر گناہ ہوگا اور اللہ عزوجل کی ناراضگی اور عذاب کا سبب ۔(2) جو عمل خالصتا اللہ عزوجل کے لیے ہوگا تو وہ رضائے الہی اور اجرو ثواب کا سبب بنے گا ۔(3) جو عمل خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے نہ ہو بلکہ اس میں ریاکاری اور نفسانی اغراض کی آمیزش ہو تو قوت کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں ہیں: اگر رضائے الہی اور دوسری غرض دونوں قوت میں برابر ہوں تو دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہوکر ساقط ہوجائیں گی اور اس عمل کا نہ تو ثواب ہوگا نہ ہی عذاب اور اگر ریاکی قوت زیاده ہوتو یہ عمل کچھ نفع نہ دے گا بلکہ الٹا نقصان اور عذاب کو لازم کرے گا، البتہ اس میں رضائے الہی کا جتنا عنصر ہوگا اتنا عذاب میں کمی ہوجائے گی اوراس عمل کا عذاب اُس عمل کے عذاب سے ہلکا ہوگا جو خالص ریاکاری کے ساتھ ہواور جس میں رضائے الہی بالکل نہ ہو اور اگر رضائے الہی کا عنصر غالب ہو تو یہ جس قدر قوی ہوگا اُسی قدر ثواب زیادہ ہوگا اور جتنا ریا ہوگا اتنا ثواب کم ہو جائے گا۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات، صفحہ ۲۷، ۲۶)