اخلاص اللہ اور اس کے بندے کے درمیان ایک راز ہے۔اخلاص کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اپنے عمل سے محض اللہ کی قربت کا طالب ہو۔اخلاص ایک ایسی کیفیت ہے جو عمل کو اہمیت بخشتی ہے اور عمل کی قبولیت کیلئے نہایت ضرورت کی حامل ہے۔ اخلاص کی سادہ تعریف یہ ہے کہ کسی بھی نیک عمل میں محض اللہ کی رضا کا ارادہ کرلینا اور اور اس کو اسی کی رضا کے ساتھ سر انجام دینا۔

(1)تین چیزوں میں خیانت نہ کرنا:روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے:الله اس بندے کو ہرا بھرا رکھے جو میرا کلام سنے اسے یاد رکھے خیال رکھے اور پہنچا دے  کیونکہ بہت سے فقہ اٹھانے والے خود غیر فقیہ ہیں اور بہت لوگ اپنے سے بڑے فقیہ تک فقہ اٹھاتے ہیں مسلمانوں کا دل تین چیزوں پر خیانت نہیں کرتا  اللہ کے لیے عمل خالص کرنا مسلمانوں کی خیرخواہی اور ان کی جماعت کو لازم پکڑنا  کیونکہ ان کی دعا ماسوا کو شامل ہے۔(مشکوٰۃ المصابیح  جلد:1 ، حدیث نمبر:228)

(2)پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول  الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں  اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے  اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔

(مشکوٰۃ المصابیح  جلد:3 ، حدیث نمبر:1958)

(3)اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر اخلاص کرنا: دو جہاں کے تاجور، سلطان بحروبر صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے۔ اللہ عزوجل کے لیے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو ، کیونکہ اللہ عزوجل ہی عمل قبول فرماتا ہے جو اس کے لیے اخلاص سے کیا جاتا ہے۔ (سنن الدار قطنی،  کتاب الطھارت، باب النیتہ، الحدیث، 130 ، ج ١، ص 73)

(4)عمل قبول کرتا ہے: شفیع روز شمار ،  دو عالم کے مالک و مختار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے۔ اللہ عزوجل وہی عمل قبول فرماتا ہے۔  جو اخلاص کے ساتھ اور اس کی رضا کے لیے کیا جاتا ہے۔ (سنن النسائی، کتاب الجھاد، الحدیث: 3142 ، ص 2290 )

(5)اخلاص والا عمل قبول ہوگا: سرکار والا تبار،  بے کسوں کے مددگار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے۔  اے لوگو!  اللہ عزوجل کے لیے اخلاص کے ساتھ عمل کرو کیونکہ اللہ عزوجل وہی اعمال قبول فرماتا ہے جو اس کے لیے اخلاص کے ساتھ کیے جاتے ہیں  اور یہ مت کہا کرو کہ میں نے یہ کام اللہ عزوجل اور رشتہ داری کی وجہ سے کیا ہے۔ (سنن الدار قطنی،  کتاب الطہارت، باب النیتہ، الحدیث، 130، ج ١، ص73)