اخلاص کی مختصر وضاحت:اخلاص یہ ہے کہ انسان اپنے کاموں کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے، اور اس میں کسی دوسرے کی رضا یا منفعت کا خیال نہ کرے، اور نہ ہی اس کا مقصد دنیا کی کوئی چیز ہو بلکہ اس کا مقصد صرف اللہ تعالٰی کی محبت اور رضا ہو۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ30، البینہ: 5)

اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ26)

(1) حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ26)

(2) عنْ اُمِّ الْمُؤمِنِیْنَ اُمِّ عَبْدِاللہِ عَائِشَۃَرَضِیَ اللہُ عَنْہَاقَالَتْ:قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَغْزُوْجَیْشٌ اَلْکَعْبَۃَ فَاِذَا کَانُوْا بِبَیْدَائَ مِنَ الْاَرْضِ یُخْسَفُ بِاَوَّلِہم وَاٰخِرِہم قَالَتْ:قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللہِ!کَیْفَ یُخْسَفُ بِاَوَّلِہم وَاٰخِرِہم وَفِیْہم اَسْوَاقُہم وَمَنْ لَیْسَ مِنْہم قَالَ یُخْسَفُ بِاَوَّلِہم وَاٰخِرِہم ثُمَّ یُبْعَثُوْنَ عَلٰی نِیَّاتِہم ۔ اُمُّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’ایک لشکر کعبہ معظمہ پرحملہ کرے گاجب وہ ’’بَیْدَاء ‘‘کے مقام پرپہنچے گاتوانکے اگلے پچھلے سب کوزمین میں دھنسا دیا جائے گا،اُمُّ المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں :’’میں نے عرض کی، یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انکے اگلے پچھلے سب کیسے دھنسادئیے جائیں گے حالانکہ ان میں سے بعض تودکاندار ہوں گے اورکچھ ان لشکریوں میں سے نہ ہوں گے؟فرمایا:انکے اول وآخرکودھنسادیاجائے گاپھروہ اپنی اپنی نیتوں پراٹھائے جائیں گے۔(بخاری،کتاب البیوع،باب ماذکرفی الاسواق 2/24حدیث:2118)

(3) عنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ صَخْرٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: إِنَّ اللہَ لَا یَنْظُرُ إِلٰی أَجْسَامِِکُمْ وَلَا إِلٰی صُوَرِکُمْ وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِکُمْ ۔حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہ عبدالرحمن بن صَخْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّ نہ تو تمہارے جسموں کی طرف نظرکرتاہے نہ ہی تمہاری صورتوں کی طرف بلکہ وہ تو تمہارے دِلوں کو دیکھتا ہے ۔( مسلم، کتاب البر والصلۃ والاداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ، ص 1387، حدیث: 2564)

اخلاص پیدا کرنے کے چند طریقے:

(1) دعا: اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو اخلاص کی توفیق دے۔(2)نیت کی تصحیح: اپنی نیت کو پاک کریں اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کام کریں۔(3)ریاکاری سے بچنا:ریاکاری سے بچنے کے لیے اپنے کاموں کو خفیہ رکھیں۔(4)اللہ تعالیٰ کا خوف: آخرت پر یقین رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہونے کا احساس کریں۔(5)آخرت کی فکر:آخرت کے لیے فکر مند رہنے سے انسان کے اندر اخلاص پیدا ہوتا ہے ۔(6)صبر و استقامت:دنیا میں آنے والی مشکلات پر صبر رکھیں اور سنجیدگی کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ (7)قرآن و حدیث کا مطالعہ:قرآن و حدیث کا مطالعہ کرنے سے انسان کے اندر خوف خدا اور عشق مصطفیٰ پیدا ہوتا ہے جس سے انسان اخلاص کا درس سیکھتا ہے ۔(8)صالحین کی صحبت: صالحین کی صحبت اختیار کریں اور ان سے اخلاص سیکھیں۔(9)نفس کی اصلاح:اپنے نفس کی اصلاح کریں اور اس کو پاک کریں۔(10)اللہ تعالیٰ کی محبت: اللہ تعالیٰ کی محبت کو اپنے دل میں رکھیں اور اس کے لیے کام کریں ۔

اخلاص کے مقاصد :

(1) اللہ تعالیٰ کی رضا:اخلاص کا اصلی مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے۔(2) دوزخ سے نجات: حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بجا آوری اخلاص سے کرنے سے ان شاءاللہ بروز آخرت دوزخ سے نجات حاصل ہوگی۔(3)روحانی سکون:اخلاص انسان کو روحانی سکون دیتا ہے اور اس کے دل کو پاک کرتا ہے۔(4) دوسروں کی محبت:جو شخص دوسروں کے ساتھ مخلص ہوتا ہے تو اللہ پاک اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے ۔(5)دنیاوی مشکلات میں آسانی: اخلاص انسان کی دنیاوی مشکلات کو بھی آسان کر دیتا ہے۔ (6)آخرت کی کامیابی: اخلاص کے ساتھ اللہ پاک کی عبادت اور دین متین کی خدمت کرنے سے انسان کو آخرت میں کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔

اخلاص ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو اپنے کاموں کو مخلص انداز سے کرنے کی ہمت دیتا ہے۔ اور ہمیں اپنے کاموں کو اخلاص کے ساتھ کرنا چاہیے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سرخرو ہو سکیں ۔