محمد
بلال عطاری(درجہ رابعہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی،پاکستان)
اخلاص انسانی زندگی کی وہ عظیم صفت ہے جو اعمال کو روح،
کردار کو وقار اور نیت کو پاکیزگی عطا کرتی ہے۔ اخلاص کا مفہوم یہ ہے کہ انسان جو
بھی کام کرے، وہ سچے دل، صاف نیت اور کسی دکھاوے یا ذاتی مفاد کے بغیر انجام دے۔
اسلام میں اخلاص کو اعمال کی بنیاد قرار دیا گیا ہے، کیونکہ نیت کی درستگی کے بغیر
کوئی بھی عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ ﷺ میں
اخلاص پر غیر معمولی زور دیا گیا ہے۔
جو اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ عمل کی قدر و قیمت نیت
کے اخلاص سے طے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف ظاہری شکل و صورت کو نہیں بلکہ دلوں کے
ارادوں کو دیکھتا ہے۔ اسی لیے اگر نیت میں ملاوٹ ہو تو بہترین عمل بھی بے اثر ہو
جاتا ہے۔
عبادت میں اخلاص انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیتا
ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر عبادات اسی وقت روحانی سکون اور اجر کا سبب بنتی ہیں
جب وہ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ادا کی جائیں۔ اگر عبادت ریاکاری، شہرت یا لوگوں
کی تعریف کے لیے کی جائے تو وہ عبادت نہیں بلکہ ایک اخلاقی بیماری بن جاتی ہے۔
اخلاص انسان کے دل کو صاف کرتا ہے اور اسے عاجزی، انکساری اور تقویٰ کی راہ پر
گامزن کرتا ہے۔
معاشرتی زندگی میں بھی اخلاص کی بڑی اہمیت ہے۔ اخلاص سے
کی گئی بات دل میں اتر جاتی ہے اور اخلاص سے کیا گیا عمل اعتماد کو جنم دیتا ہے۔
استاد کی تعلیم، والدین کی تربیت، دوستوں کی نصیحت اور رہنماؤں کی قیادت اسی وقت
مؤثر ہوتی ہے جب اس میں اخلاص شامل ہو۔ بے اخلاص رویے معاشرے میں بداعتمادی، نفرت
اور منافقت کو فروغ دیتے ہیں، جب کہ اخلاص محبت، اتحاد اور اخوت کا سبب بنتا ہے۔
اخلاص انسان کے کردار کو مضبوط بناتا ہے۔ ایک مخلص شخص
مشکل حالات میں بھی سچائی کا دامن نہیں چھوڑتا۔ وہ تعریف یا تنقید سے بے نیاز ہو
کر حق کا ساتھ دیتا ہے۔ اخلاص انسان کو صبر، استقامت اور قربانی کا حوصلہ عطا کرتا
ہے، کیونکہ وہ اپنے فائدے کے بجائے اعلیٰ مقصد کو سامنے رکھتا ہے۔
آج کے دور میں، جہاں دکھاوا اور مفاد پرستی عام ہو چکی
ہے، اخلاص کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سوشل میڈیا، سیاست اور کاروبار
میں اکثر ظاہری نمائش کو کامیابی سمجھ لیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں پائیدار کامیابی
اخلاص ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ جو کام اخلاص کے ساتھ کیا جائے، وہ دیرپا اثر رکھتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اخلاص نہ صرف عبادات کو
قبولیت بخشتا ہے بلکہ انسانی زندگی کے ہر پہلو کو سنوارتا ہے۔ ایک مخلص انسان اللہ
کا بھی محبوب بنتا ہے اور بندوں کا بھی۔ اگر ہم اپنی نیتوں کو خالص کر لیں تو ہماری
زندگی مقصدیت، سکون اور برکت سے بھر سکتی ہے۔
اخلاص اسلام کی بنیادی روح ہے۔ ہر نیک عمل کی قبولیت کا
دار و مدار اخلاصِ نیت پر ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ ﷺ میں بار بار اس بات
کی تاکید کی گئی ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام
دے۔ بغیر اخلاص کے عبادات اور نیک اعمال محض ظاہری شکل اختیار کر لیتے ہیں اور ان
کی کوئی حقیقی قدر باقی نہیں رہتی۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ
ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ
اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ۔(سورۃ البینہ: 5)یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ عبادت کی اصل بنیاد اخلاص ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ
ترجمہ کنز العرفان: سن لو! خالص عبادت اللہ ہی کیلئے ہے۔ (سورۃ
الزمر: 3) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو وہی عمل پسند ہے جو خالصتاً اسی
کے لیے ہو۔
رسولِ اکرم ﷺ کا فرمان ہے:إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ترجمہ:
اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ (بخاری،کتاب بدالوحی باب کیف کام بدالوحی الی
رسول اللہ صلی علیہ وسلم حدیث 1)
یہ حدیث اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ نیت میں اخلاص نہ ہو
تو عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔
ایک اور حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اللہ تمہاری
صورتوں اور مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔(مسلم
کتاب البر والصلۃ ولاداب باب تحریم ظلم المسلم و خذ لہ واحتیقارہ حدیث 2564)
أَخْلِصْ عَمَلَكَ
يَكْفِكَ الْقَلِيلُترجمہ:اپنا عمل خالص کر لو، تھوڑا عمل ہی تمہیں کافی ہو
جائے گا۔(شعب الإيمان للبيهقي باب الاخلاص وانیۃ حدیث 6483)
إِنَّ أَخْوَفَ مَا
أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكَ الْأَصْغَرَ» قَالُوا: وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ:
الرِّيَاءُ
ترجمہ :بیشک مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ
چھوٹا شرک ہے۔ صحابہ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! چھوٹا شرک کیا ہے؟فرمایا: ریاکاری۔
(مسند أحمد بن حنبل مسند محمود بن لبید رضی اللہ عنہ حدیث 23630)
اور ان میں وہ شخص بھی ہے جو صدقہ کرے تو اسے اس قدر
چھپائے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ دایاں ہاتھ کیا خرچ کر رہا ہے۔یہ
حدیث دل کی صفائی اور نیت کی سچائی پر زور دیتی ہے۔
عبادات کے ساتھ ساتھ معاملات میں بھی اخلاص نہایت ضروری
ہے۔ اخلاص انسان کو ریاکاری، منافقت اور دھوکے سے بچاتا ہے۔ ایک مخلص انسان سچائی،
دیانت اور انصاف کو اپنا شعار بناتا ہے۔ اخلاص سے کیا گیا عمل تھوڑا بھی ہو تو
اللہ کے ہاں عظیم اجر رکھتا ہے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اخلاص وہ روشنی ہے جو
انسان کے ہر عمل کو قیمتی بنا دیتی ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات کے مطابق جو شخص
اپنے اعمال کو اخلاص سے مزین کر لیتا ہے، وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل
کر لیتا ہے۔
اخلاص اسلام کی روح اور اعمال کی جان ہے۔ قرآن و حدیث سے
یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عمل کی ظاہری خوبصورتی نہیں بلکہ نیت
کی پاکیزگی اصل معیار ہے۔ بغیر اخلاص کے عبادات محض رسم بن جاتی ہیں اور نیک اعمال
ریاکاری میں بدل جاتے ہیں۔ ایک مخلص انسان ہر حال میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھتا
ہے، چاہے دنیا اس کی تعریف کرے یا نہ کرے۔ اخلاص انسان کو ثابت قدم، سچّا اور
باکردار بناتا ہے۔ اگر افراد اپنی نیتوں کو خالص کر لیں تو معاشرہ خود بخود اصلاح
کی راہ پر آ سکتا ہے۔ آج کے مادہ پرست دور میں اخلاص ہی وہ طاقت ہے جو انسان کو
دکھاوے، مفاد پرستی اور منافقت سے نجات دلا سکتی ہے
Dawateislami