ہر چیز میں ملاوٹ ممکن ہے جب وہ ملاوٹ سے پاک اور خالی ہو تو اسے خالص کہتے ہیں اور جس فعل سے وہ عمل صاف ہوتا ہے اس کو اخلاص کہتے ہیں۔جب کوئی کام ریاء سے خالی ہو اور رضائے الٰہی کے لئے ہو تو وہ خالص ہوتا ہے۔چنانچہ الله پاک کا فرمان ہے:

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ۔(پ 30، سورہ البینہ، آیت: 5)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک اللہ پاک تمہاری شکلوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا۔ بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔(صحیح مسلم ، کتاب البر و الصلۃ والآداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ الخ، ص: 1387، رقم الحدیث: 34 (2564)

حضرت یزید رقاشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ہم شہرت حاصل کرنے کیلئے اپنے اموال دیتے ہیں، کیا ہمیں اس کا کوئی اجر ملے گا؟ تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی اسی عمل کو قبول کرتا ہے جو خالص اس کیلئے کیا جائے۔(در منثور، سورة الزمر، زیر آیت:03، ج 8، ص 211)

سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے: الله عز وجل فرماتا ہے اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے ، جو میں نے اپنے ان بندوں کے دلوں میں بطور امانت رکھا ہے جن سے مجھے محبت ہے۔(فردوس الاخبار للديلمي ، باب القاف، رقم الحديث: 439 ج 2، ص 145)

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے، اور ریاکاری کی نحوست سے بچائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔