محمد
زین رضا(درجہ ثالثہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی،پاکستان)
اخلاص کی تعریف:کسی بھی نیک عمل میں محض
رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین
ہے۔ (پ۳۰،
البینہ: ۵)
اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ
کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے
متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم
نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل
کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نوادر الاصول، الاصل السادس، ۱ / ۴۴، حدیث: ۴۵)
عَنْ عُمَرَبْنِ
الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ
عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا
لِکُلِّ امْرِءٍ مَّانَویٰ فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ
فَہِجْرتُہٗ اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ، وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ
لِدُنْیَایُصِیْبُہَااَوْاِمْرَاَۃیَنْکِحُہَافَہِجْرَتُہٗ اِلٰی مَاہَاجَرَ
اِلَیْہِ۔
ترجمہ :اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمرفاروقِ
اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مَدِینَۂِ
مُنَوَّرَہ،سردارِمَکَّۂِ مُکَرَّمَہ ص ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا:’’اعمال نِیَّت ہی
پرہیں ،ہرشخص کیلئے وہی ہے جواُس نے نِیَّت کی،جس کی ہجرت اللہ اور رَسول کی طرف
ہوتواس کی ہجرت اللہ اوررسول ہی کی طرف ہے اورجس کی ہجرت حُصُولِ دنیایاکسی عورت
کے لئے ہوجس سے وہ نکاح کرناچاہے تواس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت
کی۔‘‘( بخا ری،کتاب بدء ا لوحي،باب کَیْفَ کَانَ بَدْئُُ الْوَحْی الخ،بتغیر قلیل،۱/۳۴، حدیث۵۴)
اخلاص پیدا کرنے کے 5طریقے:
(1)اپنی نیت درست کیجیے :کہ
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،جب تک نیت خالص نہ ہوگی عمل میں اِخلاص پیدا نہیں
ہوگا کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اِخلاص ہے۔ بعض اولیائے کرام
رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام فرماتے ہیں:’’اپنے اَعمال میں نیت کو خالص کرلو، تمہیں
تھوڑا عمل بھی کفایت کرے گا۔‘‘ (اتحاف السادۃ المتقین،کتاب النیۃ و الاخلاص، الباب
الاول فی النیۃ، ۱۳ / ۲۰)
لہٰذا خود کو
اچھی اچھی نیتوں کا عادی بنائیے ۔
(2)دُنیوی اَغراض کو دُور کیجئے:ایسی
دُنیوی اَغراض جن سے مقصود آخرت کی تیاری ومُعاوَنت نہ ہو اگر ہر عمل سے اُن کو
دُور کردیا جائے اور صرف رِضائے اِلٰہی پیش نظر ہو تو اَعمال میں رِیاکاری یعنی
دِکھاوے کے اِمکانات کا فی کم ہوجاتے ہیں۔البتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں
کا عسرت وتنگی کے ایام میں قرآنی سورتیں و وظائف وغیرہ اس نیت سے پڑھنا کہ اللہ
تَعَالٰی انہیں قناعت عطا کرے اور اتنی مقدار میں روزی عطا کرے جس سے عبادتِ الٰہی
بجالاسکیں اور درس وتدریس وغیرہ کی قوت بحال رہے تو اِس طرح کا اِرادہ نیک اِرادہ
ہے دنیا کا اِرادہ نہیں ۔(منہاج العابدین، ص۴۴۵ماخوذا۔)
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے:کیونکہ
اَعمال وہی قبول ہوں گے جو ریاکاری سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ کیے ہوں گے اور
اعمال کو ریاکاری جیسی موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ہے کہ بندہ خود
کو ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈراتا رہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب
ہوگا اتنا ہی عمل میں ریاکاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت نصیب ہوگی۔
(4)نفسانی خواہشات کو ختم کیجیے:کہ
اِخلاص میں بہت بڑی رکاوٹ نفسانی خواہشات ہیں کیوں کہ ہر عمل پرچند تعریفی کلمات
سن کر نفس بے حد سکون محسوس کرتا ہے اور یہی سکون نفس کو ریاکاری پر اُبھارتا ہے
جو اِخلاص کی دشمن ہے اور یوں اُخروی فائدے کے لیے کیا جانے والا عمل نقصان کا سبب
بن جاتا ہے۔لہٰذا نفسانی خواہشات پر قابو پائیے اور اَعمال میں اِخلاص حاصل کیجئے۔
(5)خلوت و جلوت میں یکساں عمل کیجیے:نفس
لوگوں کے سامنے تو مشقت سے بھرپور عبادت کرنے پر رضامند ہوجاتا ہے کیوں کہ اِس طرح
اُسےشہرت، تعریف اور واہ واہ جیسے میٹھے زہر ملتے ہیں، لیکن تنہائی میں رِضائے
الٰہی کے لیے خشوع وخضوع کے ساتھ دو رکعت پڑھنا اُس کے نفس پر نہایت گراں ہے۔خلوت
و جلوت کا یہ تضاد بندے کے عمل سے اِخلاص کو ختم کردیتا ہے۔ لہٰذا اپنے اَعمال میں
اخلاص پیدا کرنے کے لیے خلوت وجلوت دونوں میں رضائے الٰہی کی نیت سے خشوع وخضوع کے
ساتھ نیک اَعمال بجا لائیے۔
Dawateislami