اخلاص کی تعریف : اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے عمل خالص کر لینا ، جس میں شہرت، دکھاوا (ریاکاری) یا کسی دنیاوی فائدے کا شائبہ تک نہ ہو۔

(1) تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے:حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى"ترجمہ:اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔( صحیح بخاری، کتاب الایمان، حدیث نمبر: 1؛ صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، حدیث نمبر: 1907)

(2) اللہ تعالیٰ دلوں اور نیتوں کو دیکھتا ہے:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ"ترجمہ:اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔ ( صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث نمبر: 2564 (صفحہ نمبر 1211، جلد 4)

(3) دکھاوے کا عمل شرکِ اصغر ہے:حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ قالوا: وما الشرك الأصغر يا رسول الله قال: الرِّيَاءُ"ترجمہ:مجھے تم پر جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے وہ شرکِ اصغر ہے، صحابہ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ فرمایا: ریاکاری (دکھاوا)۔( مسند احمد، حدیث نمبر: 23630 جلد 5، صفحہ 428)

(4)خالص عمل کی قبولیت:حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ"ترجمہ:اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اس کے لیے ہو اور جس سے اس کی رضا مقصود ہو۔( سنن نسائی، کتاب الجہاد، حدیث نمبر: 3140 جلد 6، صفحہ 25)

(4) اخلاص پر اجر کی بشارت:نبی کریم ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا"ترجمہ:تم جو بھی خرچ کرو گے اور اس سے تمہارا مقصد اللہ کی رضا ہوگا، تو تمہیں اس پر اجر دیا جائے گا۔( صحیح بخاری، کتاب الجنائز، حدیث نمبر: 1295 جلد 2، صفحہ 81)

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ جو کچھ سنا ہے یا سیکھا اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔