اِخلاص کی تعریف:‏ کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔

(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۵)

اخلاص کی اصطلاحی تعریف: اخلاص سے مراد یہ ہے کہ اپنے تمام اقوال، اعمال اور نیتوں کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خالص کر لے، ان میں کسی قسم کی ریاکاری، دکھاوا یا غیر اللہ کی چاہ شامل نہ ہو۔

اسلام میں اعمال کی قبولیت کا اصل مدار اخلاص پر ہے۔ اخلاص کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اپنے ہر قول، فعل اور عبادت میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصود رکھے، نہ کہ لوگوں کی تعریف، شہرت یا دنیاوی فائدہ۔ رسولِ اکرم ﷺ نے اخلاص کو دین کی بنیاد اور روح قرار دیا ہے، کیونکہ بظاہر نیک عمل بھی اگر خلوصِ نیت سے خالی ہو تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کوئی قدر نہیں۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَی یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔(بخاری: 01 مسلم: 1907)

یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ عمل کی ظاہری صورت نہیں بلکہ اس کے پسِ پشت نیت اصل چیز ہے، اور یہی نیت عمل کو مقبول یا مردود بناتی ہے۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ خَالِصًا وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ یعنی اللہ تعالیٰ وہی عمل قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو اور جس کے ذریعے اس کی رضا طلب کی جائے۔(سنن نسائی: 3140)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اخلاص کے بغیر کوئی بھی عبادت یا نیکی اللہ تعالیٰ کے ہاں شرفِ قبولیت حاصل نہیں کر سکتی۔

اخلاص کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ بندہ تنہائی اور جلوت دونوں میں ایک جیسا رہے، تعریف و تنقید کو برابر سمجھے اور عمل کے بعد بھی خود کو اللہ کے حضور محتاج جانے۔ سلفِ صالحین نیک اعمال کو چھپانے کی بھرپور کوشش کرتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خفیہ عبادت اخلاص کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔

آخر میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اخلاص ہی وہ روح ہے جو عبادات کو زندہ اور مؤثر بناتی ہے۔ بغیر اخلاص کے اعمال محض جسم ہیں جن میں روح نہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے دل کا محاسبہ کرے، اپنی نیتوں کو درست رکھے اور ہر عمل میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو پیشِ نظر رکھے، تاکہ اس کی عبادات اور نیکیاں بارگاہِ الٰہی میں قبولیت کا درجہ حاصل کر سکیں۔