محمد
عاشق رضا (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی ، پاکستان)
اخلاص ایک ایسا قیمتی جوہر ہے جس کا حیات انسانی میں ہو
نا بےحد ضروری ہے۔ اخلاص کے بغیر کیا گیا ہر عمل بےکارہے کیوں کہ اعمال کا
دارومدار اخلاص ہی پر ہے اس لیے ہر کام میں مخلص ہونا بہت ضروری ہے چنانچہ دو جہاں
کے تاجور سلطان بحرو بر صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے :
اللہ عز وجل کے لئے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ عز وجل وہی عمل
قبول فرماتا ہے جو اس کے لیے اخلاص کے ساتھ کیا جاتا ہے۔(سنن الدارقطنی، کتاب
الطہارت، باب النیہ، الحدیث: 130، ج1، ص73)
حسن اخلاق کے پیکر نبیوں کے تاجور محبوب رب اکبر عز وجل
وصلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے اللہ عز وجل کی عبادت اخلاص
کے ساتھ کرو پانچ وقت کی نماز قائم کرو خوشدلی سے اپنے اموال کی زکوة ادا کرو
رمضان کے روزے رکھو اور اپنے رب عز وجل کے گھر کا حج کرو تو یقینا اپنے رب عز وجل
کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔(کنزالعمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، باب الاخلاص،
الحدیث 5256، ج3، ص12)
نور کے پیکر تمام نبیوں کے سرو رصلی اللہ تعالٰی علیہ
وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے :اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ، تھوڑا عمل بھی تمہارے
لئے کافی ہوگا۔(المستدرک، کتاب الرقاق، الحدیث 7914، ج5، ص435)
اللہ کے محبوب دانائے غیوب، منزه عن العیوب صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا:جو چالیس دن اللہ عز وجل کے لیے مخلص ہوجائے تو دل سے حکمت کے چشمے
اس کی زبان پر جاری ہوجاتے ہیں۔(الحلیۃ الاولیاء، الحدیث: 6879، ج5، ص215)
محبوب رب العزت محسن انسانیت صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ
وسلم کا فرمان عالیشان ہے : اچھی نیت عرش سے چمٹ جاتی ہے پس جب کوئی بندہ اپنی نیت
کو سچا کر دیتا (یعنی اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا) ہے تو عرش ہلنے لگ جاتا ہے، پھر
اس بندے کو بخش دیا جاتا ہے۔(تاریخ بغداد، القاسم بن الحن، الحدیث: 6926، ج12،
ص444)
یہ تمام احادیث کریمہ اخلاص کی اہمیت کو روز روشن کی طرح
واضح کر رہی ہیں کہ ہر نیک عمل کی قبولیت اور کامیابی کا دارومدار صرف اس بات پر
ہے کہ وہ عمل خالصتاً اللہ تعالیٰ کیا گیا ہو۔
حضرت وہب بن منبہ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے
تھے :من طلب الدنيا بعمل الآخرة نكس
الله قلبه وكتب اسمه في ديوان اهل النارجو شخص آخرت کے عمل کے
ساتھ دنیا طلب کرے۔ خدائے تعالیٰ اس کے دل کو الٹا کر دیتا ہے اور اس کا نام دوزخیوں
کے دفتر میں لکھ دیتا ہے۔(تنبیہ المغترين، الباب الاول، اخلاصهم لله تعالى، ص23)
مِرا
ہر عمل بس ترے واسِطے ہو کر اِخلاص ایسا عطا یا الٰہی
Dawateislami