اسلام میں اعمال کی بنیاد نیت پر رکھی گئی ہے، اور نیت کی روح اخلاص ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال، عبادات اور نیک کام صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے، نہ کہ لوگوں کو دکھانے، تعریف حاصل کرنے یا دنیاوی فائدے کے لیے۔ اخلاص وہ عظیم صفت ہے جو تھوڑے سے عمل کو بھی بہت بڑا بنا دیتی ہے، جبکہ اخلاص کے بغیر بڑے سے بڑا عمل بھی اللہ کے ہاں بے وزن ہو جاتا ہے۔ قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ میں اخلاص کی بڑی تاکید آئی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص نیت کے ساتھ کیا جائے۔

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رب سارے جہان کا۔(سورہ انعام 162)

تفسیر صراط الجنان:وَ مَحْیَایَ:اور میرا جینا۔ یہاں جو فرمایا گیا وہ حقیقتاً ایک مومن زندگی کی عکاسی ہے کہ مسلمان کا جینا، مرنا، اور عبادت و ریاضت سب کچھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے ہونا چاہیے۔ زندگی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے کاموں میں اور جینے کا مقصد اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دین کی سربلندی ہو۔ یونہی مرنا حالت ِ ایمان میں ہو اور ہوسکے تو کلمۂ حق بلند کرنے کیلئے ہو۔ یونہی عبادت کا شرکِ جلی سے پاک ہونا تو بہرحال ایمانیات میں داخل ہے، عبادت شرک ِ خفی یعنی ریاکاری سے بھی پاک ہو اور خالصتاً اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا و خوشنودی کیلئے ہو۔

(1)نیت کا معیار:إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى۔ترجمہ:اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔(صحیح البخاری: 1، صحیح مسلم: 1907)

یہ حدیث اخلاص کی بنیاد ہے اور اسلام کی مشہور ترین احادیث میں سے ہے۔

(2)اللہ اخلاص ہی قبول فرماتا ہے:إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ ترجمہ:اللہ تعالیٰ کسی عمل کو قبول نہیں فرماتا مگر وہی جو خالص اسی کے لیے ہو اور اس سے اس کی رضا مقصود ہو۔(سنن النسائی: 3140)

(3)تھوڑا مگر خالص عمل:رُبَّ عَمَلٍ صَغِيرٍ تُعَظِّمُهُ النِّيَّةُترجمہ:بسا اوقات چھوٹا عمل نیت کی وجہ سے بڑا ہو جاتا ہے۔(المعجم الکبیر للطبرانی)

یہ حدیث اخلاص کی عظمت کو واضح کرتی ہے۔