اعمال میں اخلاص کا بڑا اہم کردار ہے بندہ چاہے جتنے بھی نیک اعمال کرلے بے شمار نمازیں پڑھے، روزے رکھے، حج و عمرہ ادا کرے لیکن اگر اس میں اخلاص نہیں تو ان نیک اعمال کا کوئی فائدہ ہی نہیں گویا کہ اس نے یہ نیک اعمال کیے ہی نہیں لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اخلاص اور اس کی اہمیت کو جانیں تاکہ ہمارا کوئی بھی عمل اخلاص سے خالی نہ ہو۔

اخلاص کی تعریف :کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا۔

(1)اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:‏حضور نبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ 24)

(2) نیک میں اعمال میں اخلاص نہ ہونے کا وبال: اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مَدِینَۂِ مُنَوَّرَہ، سردارِ مَکَّۂِ مُکَرَّمَہ ص ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:اعمال نِیَّت ہی پر ہیں ہرشخص کیلئے وہی ہے جواُس نے نِیَّت کی، جس کی ہجرت اللہ اور رَسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور رسول ہی کی طرف ہے اور جس کی ہجرت حُصُولِ دنیا یا کسی عورت کے لئے ہو جس سے وہ نکاح کرنا چاہے تواس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔( بخا ری ،کتاب بدء ا لوحي،باب کَیْفَ کَانَ بَدْئُُ الْوَحْی الخ،بتغیر قلیل،۱/۳۴، حدیث۵۴)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس فرمانِ مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہ دَرس ملاکہ اعمال کاثواب نِیَّتوں پر موقوف ہے ،جو اللہ عزَّوَجَلَّ کی خوشنودی کے لئے یعنی اخلاص کے ساتھ عمل کرے گا وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوگا اور جس کا عمل اخلاص سے فقط دنیا کے لئے ہوگا اسے کچھ ثواب نہ ملے گا بلکہ یہ عمل بعض صورتوں میں اس کیلئے وَبال بن جائے گا۔

(3) جیسا کہ شرح مسلم میں ہے: جس نےاللہ عزَّوَجَلَّ کی خوشنودی کیلئے ہجرت کی اس کا ثواب اللہ عزَّوَجَلَّ کے ذِمّۂ کرم پر ہے اور جس نے دنیا یا کسی عورت کے لئے ہجرت کی تو وہی اس کا حصہ ہے، اسے آخرت میں کچھ ثواب نہ ملے گا۔(شرح مسلم للنووی، کتاب الامارۃ، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم انما الاعمال بالنیۃ، ۷/۵۴، الجزء الثالث عشر)

جس نے دِکھاوے کیلئے نماز پڑھی اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی رِضا کی نِیَّت نہ کی تو وہ گناہگار ہوگا۔ الغرض’’جیسی نِیَّت ویساصلہ۔‘‘ اخلاص ہوگا تو ثواب ملے گا ورنہ اعمال برباد کردیے جائیں گے۔

(4) اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ:نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ، تھوڑا عمل بھی تمہارے لئے کافی ہوگا۔ (المستدرک ،کتاب الرقاق ، الحدیث۷۹۱۴،ج۵،ص۴۳۵)

بندہ چاہے کثرت سے نیک اعمال کرتا رہے لیکن اگر اس میں اخلاص نہیں تو ان اعمال کا کوئی فائدہ نہیں لیکن اخلاص کے ساتھ تھوڑا نیک عمل کرے تو وہ کافی ہے مثلا کوئی شخص ہے وہ لاکھوں روپے مساجد و مدارس میں دیتا ہو لیکن اخلاص نہ ہو تو لاکھوں روپے خرچ کرنا بےکار ہے۔ دوسری طرف وہ شخص جو تھوڑا ہی مال خرچ کرے لیکن اخلاص کے ساتھ خرچ کرے تو اس کا یہ تھوڑا مال خرچ کرنا لاکھوں روپے خرچ کرنے پر غالب ہوگا۔

(5) اخلاص سے خالی عمل قبول نہیں کیا جاتا: دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی عمل قبول فرماتا ہے جواس کے لئے اخلاص کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ (سنن الدارقطنی،کتاب الطہارت، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰،ج۱،ص۷۳)

شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باِذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ و ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی عمل قبول فرماتا ہے جو اخلاص کے ساتھ اور اس کی رضا کے لئے کیا جاتا ہے۔ ‘‘ (سنن النسائی،کتاب الجہاد،الحدیث: ۳۱۴۲،ص۲۲۹۰)

پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہیے کہ ہم جو بھی نیک اعمال کریں اس میں اخلاص کی اہمیت کو پیشِ نظر ضرور رکھیں کیونکہ آپ نے جانا اخلاص ہوگا تو نیک اعمال کے ثواب کے ہم مستحق ہوسکیں گے ورنہ ایسے نیک اعمال کا کوئی فائدہ نہیں جو اخلاص سے ہی خالی ہو ۔اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہمیں اخلاص کی دولت سے ملامال فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیینﷺ۔