زین
العابدین( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ سادھوکی، لاہور،پاکستان)
اِخلاص کی تعریف: کسی بھی نیک عمل میں
محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔
وَ
مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ
حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ
الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز
قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (البینہ:5)
اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ
کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور
تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور
زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
(1) اللہ کی رضامندی کا سبب:وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا عَلَى الإِخْلاصِ للَّهِ وَحْدَهُ لَا
شَرِيكَ لَهُ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَأتى الزَّكَاةَ فَارَقَهَا وَاللَّهُ عَنْهُ
رَاضِ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا سے اس حالت میں رخصت ہوا ہو وہ اخلاص کے
ساتھ اللہ تعالی کے ایک ہونے پر ایمان رکھتا ہو کہ اس کا کوئی شریک نہیں ہے وہ
نماز قائم کرتا ہو وہ ز کوۃ ادا کرتا ہو اور وہ دنیا سے الگ رہتا ہو تو اللہ تعالیٰ
اس سے راضی ہو جاتا ہے۔ (الترغیب والترہیب جلد 1 کتاب الایمان ص 31 )
(2)رشد وہدایت والے کون:وَرُوِيَ عَنْ لَوْبَانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: طُوْبِي لِلْمُخْلِصِينَ أَوْلِئِكَ مَصَابِيحُ
الْهُدَى تَنْحَلَّى عَنْهُمْ كُلُّ فِتْنَةٍ ظُلَمَاءَ حضرت
ثوبان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اخلاص
والے لوگوں کے لیے خوشخبری ہے کیونکہ وہ لوگ رشد و ہدایت کے چراغ ہیں، جن کے سبب
ہر فتنہ کی تاریکی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ (الترغیب والترہیب جلد 1 کتاب الایمان ص
32)
(3) امت کی مدد کا سبب:وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيْهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
أَنَّهُ ظَنَّ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مِنْ دُونِهِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ
الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِضَعِيفَهَا
بِدَعْوَتِهِمْ وَصَلَاتِهِمْ
وَاخْلاصِهِمْ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ وَهُوَ فِي الْبُخَارِي
وَغَيْرِهِ دُوْنِ ذِكْرِ الْإِخْلَاصِ
حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے والد گرامی رضی
اللہ عنہ کے حوالہ سے بیان کیا، ایک دفعہ انہوں نے یہ خیال کیا کہ وہ ان لوگوں پر
فضیلت رکھتے ہیں جو کم درجہ کے ہیں تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک
اللہ تعالی اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، نمازوں اور اخلاص کے سبب
فرمائے گا۔ (الترغیب والترہیب جلد 1 کتاب الایمان ص 33 )
(4) عمل قلیل کے نفع بخش بننے کا سبب:وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ قَالَ حِيْنَ بُعِثَ
إِلَى الْيَمَنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي القَالَ أَخْلِصْ دِينَكَ يَكْفِكَ الْعَمَلُ الْقَلِيلُ رَوَاهُ الْحَاكِم من طَرِيقَ
عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زُحْرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عِمْرَانَ وَقَالَ صَحِيحُ
الْإِسْنَادِ كَذَا قَالَ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب انہیں یمن کی طرف روانہ کیا جانے لگا توانہوں نے عرض
کیا یارسول اللہ مجھے کوئی ہدایت ارشاد فرمائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم اپنے دین کو خالص کر لو تو عمل قلیل بھی تمہیں کفایت کرے گا ۔(الترغیب والترہیب
جلد نمبر 1 کتاب الایمان ص 32)
مخلص بننے کے طریقے میں سے یہ بھی ہے کہ یہ نیت درست کی
جائے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے جب تک نیت خالص نہ ہوگی عمل میں اخلاص پیدا
نہیں ہوگا کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اخلاص ہے ۔اللہ تعالی سے دعا ہے
کہ ہمیں ان حدیث پر عمل کرتے ہوئے آگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ نبی
الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
Dawateislami