عامر
فرید عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی، لاہور،پاکستان)
اخلاص کی تعریف: اخلاص یہ ہے کہ ارادے
کے ساتھ صرف اللہ ﷺ کے لیے عبادت کی جائے یعنی وہ عبادت کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل
کرے کوئی اور مقصد نہ ہو، نہ تو مخلوق کے لیے بناوٹ ہو نہ لوگوں سے تعریف کی خواہش
ہو اور نہ ہی لوگوں سے تعریف کروانے کی محبت ہو بلکہ اللہ ﷺ کے قرب کے علاوہ کوئی
دوسری بات پیش نظر نہ ہو۔ یہ کہنا بھی درست ہے کہ مخلوق کی نگاہوں سے اپنے فعل کو
پاک رکھنے کا نام اخلاص ہے۔(رسالہ قشیریہ صفحہ 379 مطبوعہ امام اعلی حضرت)
(1)اخلاص اللہ کے رازوں میں سے راز ہے :نبی
اکرم صلی للہ علیہ وسلم سے اخلاص کے بارے میں پوچھا گیا کہ یہ کیا ہے؟آپ نے فرمایا
میں نے اپنے رب سے اخلاص کے بارے میں پوچھا کہ یہ کیا ہے تواللہ ﷺ نے فرمایا: سِرٌّ مِنْ سِرِى إِسْتَوْدَعْتُهُ قَلب من أَحْبَبْتُهُ
مِنْ عِبَادِی یہ میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں نے اس بندے
کے دل میں رکھا ہے جسے میں محبت کرتا ہوں ۔(رسالہ قشیریہ صفحہ 380 مطبوعہ امام اعلی
حضرت)
(3)ہدایت کے چراغ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک مجلس میں حاضر ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا:
اخلاص والوں کے لیے خوشخبری ہے۔ یہ لوگ ہدایت کے چراغ ہیں اور انہی کی بدولت تار یک
فتنے چھٹ جاتے ہیں۔(اخلاص و نیت لابن ابی الدنیا صفحہ 8)
(4)اخلاص اور قبولیت ملے ہوئے ہیں: حضرت
عبد الواحد بن زید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: قبولیت اخلاص کے ساتھ ملی ہوئی ہے ،
ان دونوں کے درمیان کوئی جدائی نہیں۔(اخلاص و نیت لابن ابی الدنیا صفحہ 10)
(5)دین اور علم کی نشانیاں: حضرت
ربیع بن انس رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے: دین کی نشانی اللہ پاک کے لیے اخلاص ہے
جبکہ علم کی نشانی اللہ پاک کا خوف ہے۔(اخلاص و نیت لابن ابی الدنیا صفحہ 9)
Dawateislami