اخلاص یعنی ہر عمل کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے
انجام دینا، دینِ اسلام کا بنیادی اور اہم ترین تقاضا ہے۔ کسی بھی نیکی، عبادت یا
خدمت میں اگر اخلاص نہ ہو تو وہ عمل ظاہری طور پر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اللہ کے
ہاں مقبول نہیں ہوتا۔ احادیثِ نبویہ میں اخلاص کی بارہا تاکید کی گئی ہے۔
اس حدیث سے واضح
ہوتا ہے کہ ہر عمل کی قبولیت کا انحصار نیت اور اخلاص پر ہے۔ جب نیت خالص ہو تو
چھوٹا عمل بھی عظیم بن جاتا ہے، اور ریاکاری و دکھاوے کے ساتھ کیا گیا بڑا عمل بھی
بیکار ہو جاتا ہے۔
ہر مخلوق رب
تعالی کی تسبیح بزبان قال کرتی ہے، رب تعالی فرماتا ہے : " وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ "
دوسری جگہ فرماتا ہے : " قَدْ
عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ"۔ حق یہ ہے کہ ہر چیز کو
رب تعالی کی معرفت حاصل ہے اور وہ بزبان قال نہ کہ فقط حال سے تسبیح کرتی ہے اولیاء
اللہ ان تسبیحوں کو سنتے ہیں، صحابہ کرام کھاتے وقت لقمے کی تسبیح سنتے تھے حتی کہ
سبزہ کی تسبیح کی برکت سے عذاب قبر میں تخفیف ہوتی ہے۔
یعنی شکر کا ستون ہے یا شکر کی چوٹی ہے جس کے بغیر شکر
مکمل نہیں ہو تا۔ (از مرقات) لا الہ الا اللہ سے مراد پورا کلمہ ہے ، اخلاص سے
مراد ہے چھٹکارا اور رہائی یعنی اس کلمہ طیبہ کی برکت سے بندہ دنیا میں کفر سے اور
آخرت میں دوزخ سے رہائی پاتا ہے یا اخلاص ریاء کا مقابل ہے، بمعنی خلوص نیت یعنی یہ
کلمہ اگر خصوص نیت سے پڑھا جائے تو مفید ہے کہ اس کا ثواب اس کی عظمت ان تمام چیزوں
کو بھر دیتی ہے یہ ہمیں سمجھانے کے لیے ہے کہ ہماری کوتاہ نظریں ان آسمان زمین تک
ہی محدود ہیں ، ورنہ رب تعالی کی کبریائی کے مقابل آسمان و زمین کی کیا حقیقت ہے یہ
ایسے ہے جیسے رب تعالی نے فرمایا کہ "لَهُ
مَا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ " حالانکہ اس کی
ملکیت آسمان و زمین میں محدود نہیں ۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد : 3،
حدیث نمبر : 2322)
لا احتساب حسب سے بنا، بمعنی گمان کرنا اور سمجھنا،
احتساب کے معنی ہیں ثواب طلب کرنا یعنی جس روزہ کے ساتھ ایمان اور اخلاص جمع ہو
جائیں اسکا نفع تو بے شمار ہے۔ دفع ضرر یہ ہے کہ اس کے سارے صغیرہ گناہ، حقوق اللہ
معاف ہو جاتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہندؤوں کے برت (روزہ) اور کافروں کے
اپنے دینی روزوں کا کوئی ثواب نہیں کہ وہاں ایمان نہیں اور جو شخص بیماری کے علاج
کے لیے روزہ رکھے نہ کہ طلب ثواب کے لیے تو کوئی ثواب نہیں کہ وہاں احتساب نہیں۔
اخلاص وہ نور ہے جو انسان کے اعمال کو روشن کر دیتا ہے
اور اسے اللہ کی رضا کے قریب کر دیتا ہے۔ احادیث کی روشنی میں یہ حقیقت اجاگر ہوتی
ہے کہ جو عمل صرف اللہ کے لیے کیا جائے، وہی آخرت میں نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔ ہمیں
چاہیے کہ ہر عبادت، خدمت یا نیکی میں اپنی نیت کو خالص رکھیں اور ہر عمل سے پہلے
دل میں یہ سوال ضرور کریں: "کیا یہ صرف اللہ کے لیے ہے؟"۔ اللہ تعالیٰ
ہمیں ہر عمل میں اخلاص عطا فرمائے اور ریاکاری سے بچنے کی توفیق دے، آمین۔
Dawateislami