اخلاص کی اہمیت یہ ہے کہ یہ تمام اعمال کی قبولیت کی بنیاد ہے، اعمال کی روح ہے، اور دنیا و آخرت میں کامیابی، اللہ کی محبت، درجات کی بلندی اور عذاب سے نجات کا ذریعہ ہے، اس کے بغیر عمل بے روح ہوتا ہے اور ریاکاری (دکھاوے) کا شکار ہو جاتا ہے، جس سے انسان اللہ کی رضا حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ اخلاص کا مطلب ہے کہ کسی بھی عمل میں نیت صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو، اس میں دکھاوا، شہرت، یا دنیاوی لالچ شامل نہ ہو۔

(1) گناہ بخش دیئے جاتے ہیں :حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:1958)

(2) رازوں میں سے ایک راز ہے:حضرت سیدنا حسن بصری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں نے اپنے محبوب بندوں کے دل میں ودیعت رکھتا ہوں ۔(فردوس الاخبار ،2/145،حدیث:4539)

(3) دنیا چھوڑی دی:حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا دو جہاں سرور معصوم حسن اخلاق کے پیکر نبیوں کے تاجور محبوب رب اکبر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اللہ وحدہ لا شریک لہ کے لیے مخلص ہونے کی حالت میں دنیا چھوڑی اور نمائز قائم کی اور زکوۃ ادا کی تو اس نے اس حال میں دنیا چھوڑی کہ اللہ عزوجل اس سے راضی تھا ۔(المستدرک ،کتاب التفسیر، باب خطبۃ النبی فی حجتہ الوداع ،حدیث 3330،ج 3، ص 65)

(4) دین کا مخلص ہونا :حضرت سیدنا ابو عمران رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ نے یمن کی طرف بھیجے جاتے وقت عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ نصیحت فرمائیے نبی مکرم نور مجسم رسول اکرم شہنشاہ بنی آدم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے دین میں مخلص ہو جاؤ تھوڑا عمل بھی تمہیں کفایت کرے گا ۔(المستدرک، کتاب الرقائق ،حدیث 7914،ج 5، ص 435)

(5) ہدایت کے چراغ:حضرت سیدنا سبحان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نور کے پیکر تمام نبیوں کے سرور دو جہاں کے تاجور سلطان بحروبر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا مخلصین کے لیے خوشخبری ہے کہ وہی ہدایت کے چراغ ہیں انہی کی وجہ سے آزمائش کی ہر تاریکی چھٹ جاتی ہے ۔(الترغیب و الترہیب کتاب البعث واھوال یوم القیمہ باب الترتیب فی الاخلاص الخ ،حدیث 5،ج 1 ،ص 23)