یوں تو آقا علیہ الصلوۃ والسلام کا ہر فرمان ہر کام ہر
قول ہر فعل حکمت سے بھرپور ہے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے اقوال کے ذریعے
افعال کے ذریعے اپنے کام کے ذریعے زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فرمائی ،اخلاص ہو
،تقوی ہو، پرہیزگاری ہو، خانگی زندگی ہو، معاشرتی زندگی ہو ،معاشی زندگی ہو،
کاروباری لحاظ سے ہو ،ہر لحاظ سے آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے امتیوں کی
رہنمائی فرمائی اسی طرح آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ احادیث مبارکہ جن میں مخلص
رہنے،اخلاص اپنانے کا بیان ہوا ان میں سے 4 فرامین کو ملاحظہ کرتے ہیں:
(1)وَعَنِ
ابْنِ عُمَرَ أَنَّهٗ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ هِيَ صَلَاةُ الْخَلَائِقِ،
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَلِمَةُ الشُّكْرِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ كَلِمَةُ
الإخْلَاصِ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ تَمْلأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ،
وَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ قَالَ
اللّٰهُ تَعَالٰى: أَسْلَمَ وَاسْتَسْلَمَ. رَوَاهُ رَزِيْنٌترجمہ:روایت
ہے حضرت ابن عمر سے کہ آپ نے فرمایاسبحان الله ساری مخلوق کی عبادت ہے اورالحمد
لله کلمہ شکر ہے اورلا الہ الا الله اخلاص کا کلمہ ہے اور الله اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی فضا
بھردیتا ہے اور جب بندہ کہتا ہےلاحول ولا قوۃ الا بالله تورب تعالٰی فرماتا ہے میرا
بندہ مطیع ہوگیا اور اپنے کو میرے سپردکردیا۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
جلد نمبر: 3 باب :اللّٰہ تعالی کے ناموں کا بیان حدیث نمبر:2322)
(2)وَعَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا
تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ
لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا
وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔ترجمہ:روایت
ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان
و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں
ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو
شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں
گے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد نمبر: 3 باب: روزے کا بیان حدیث نمبر:
1958)
(3) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت معاذ
بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا:"اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے
ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نوادر الاصول الاصل، السادس جلد نمبر: 1صفحہ
نمبر:44 حدیث نمبر: 45)
(4) حضور نبی پاک صاحب لولاک سیاح افلاک صلی اللہ علیہ
والہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے
وہی ہے جس کی وہ نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ
والہ وسلم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ
والہ وسلم کے لیے ہےاور جس کی ہجرت دنیا پانے اور عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہو گی
تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی ۔(صحیح البخاری کتاب الایمان
باب: ما جاء ان الاعمال جلد نمبر: 1 ،حدیث نمبر:54،صفحہ نمبر: 7)
اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ ہم نے جو احادیث مبارکہ
میں پڑھا اخلاص کے بارے میں، عبادات میں اخلاص کے بارے میں، نماز روزہ کے بارے میں
اخلاص ،پھر نیت کے بارے میں اخلاص تو اللہ تعالی ہمیں اپنے اندر اخلاص پیدا کرنے کی
توفیق عطا فرمائے اور ان احادیث مبارکہ سے اخلاص کے پہلوؤں کو حاصل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے آمین بجاہ نبی الکریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
Dawateislami