عبدالرحمن
عطاری (درجہ رابعہ جامعۃالمدینہ فیضان رضا چوہنگ،لاہور، پاکستان )
اخلاص (Impartiality) عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے کسی عمل کو محض اللہ تعالیٰ کی
رضا اور خوشنودی کے لیے سرانجام دینا۔ یہ ایمان کی روح اور ہر نیک عمل کی قبولیت کی
بنیادی شرط ہے۔ اگر عمل بظاہر کتنا ہی اچھا ہو، لیکن اس میں اخلاص نہ ہو، تو وہ بے
وزن ہو جاتا ہے۔یہاں احادیث کی روشنی میں اخلاص کی اہمیت بیان کی گئی ہے:
(1)عمل کی
قبولیت کا دار و مدار:تمام اعمال کا دار و مدار صرف اور صرف نیت پر ہے۔ اخلاص
نیت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اِنَّمَا
الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَاِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَّا نَوَىٰ، فَمَنْ
كَانَتْ هِجْرَتُهُ اِلَى اللّٰهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ اِلَى اللّٰهِ
وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ اِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا اَوْ امْرَاَةٍ
يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ اِلَى مَا هَاجَرَ اِلَيْهِ۔
ترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو
وہی ملے گا جو اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوگی، تو
اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف مانی جائے گی، اور جس کی ہجرت دنیا کمانے یا
کسی عورت سے شادی کرنے کی غرض سے ہوگی، تو اس کی ہجرت اسی کے لیے مانی جائے گی جس
کے لیے اس نے ہجرت کی۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۱)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ عمل کی شکل نہیں، بلکہ باطنی نیت
(اخلاص) ہی اس کے اجر کا تعین کرتی ہے۔
(2)شرک خفی
(ریاء) سے نجات:اخلاص، ریاکاری (دکھاوا) کا تریاق ہے۔ ریاکاری ایک ایسا "شرک
خفی" ہے جو اعمال کو ضائع کر دیتا ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کے بارے میں فیصلہ کیا
جائے گا، ان میں ایک شہید ہوگا۔ اسے لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں
یاد کرائے گا۔ وہ اقرار کرے گا۔ اللہ پوچھے گا: 'تو نے ان نعمتوں میں کیا عمل کیا؟وہ
کہے گا: میں نے تیری راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔اللہ فرمائے گا: تو
نے جھوٹ کہا! تو نے تو اس لیے جہاد کیا تاکہ لوگ تجھے بہادر کہیں، اور وہ کہا گیا۔پھر
عالم اور سخی کو لایا جائے گا اور ان دونوں کو بھی جہنم میں ڈال دیا جائے گا کیونکہ
ان کے اعمال میں ریاکاری تھی، اور وہ چاہتے تھے کہ لوگ انہیں عالم اور فیاض کہیں۔(صحیح
مسلم، حدیث نمبر: ۱۹۰۵)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عظیم اعمال (جہاد، علم،
سخاوت) بھی، اگر خالص اللہ کی رضا کے لیے نہ ہوں تو وہ آخرت میں وبال بن جاتے ہیں۔
(3) قلیل
عمل اجر میں بڑھ جاتا ہے:بسا اوقات، اخلاص کی وجہ سے ایک
چھوٹا سا عمل بھی بہت بڑے اجر کا باعث بن جاتا ہے، جبکہ دکھاوے والا بڑا عمل ضائع
ہو جاتا ہے۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں اور
تمہاری شکلوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں (اخلاص) اور تمہارے اعمال کو دیکھتا
ہے۔(صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۵۶۴)
یہ حدیث اخلاص کے مقام کو واضح کرتی ہے کہ اللہ کی نظر میں
ظاہری شان و شوکت اور عمل کی کثرت نہیں، بلکہ دل کی اخلاص والی کیفیت زیادہ اہمیت
رکھتی ہے۔
اخلاص دراصل اپنے عمل کو دنیاوی مفادات (جیسے: تعریف،
شہرت، مال و دولت) سے پاک کر کے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مختص کر دینا ہے۔
احادیث کی روشنی میں، اخلاص عمل کی قبولیت کی کنجی ہے اور ریاکاری سے نجات کا واحد
ذریعہ ہے۔ ایک مومن کو ہر وقت اپنی نیت کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے تاکہ اس کے تمام
اعمال (عبادت، کاروبار، تعلیم، خدمت خلق) اللہ کے ہاں مقبول ہو سکیں۔
Dawateislami