وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پارہ 30 ،البینہ: 5)

اس آیت مبارکہ میں لوگوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ اللہ کی بندگی کریں۔ بیشک ہم مسلمان ہیں اور ہمارا تو فرض ہے کہ ہم اللہ ہی کی عبادت کریں اسی پر ایمان لائیں۔اللہ پاک کی بندگی سے مراد اس کی عبادت کو اخلاص کے ساتھ اداء کرنا ہے۔

اخلاص کیا ہے؟ اخلاص کا مطلب کہ کوئی بھی نیک عمل کو اللہ عزوجل کے لیے ہی کرنا۔ جیسا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا:اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ26)

اخلاص سے متعلق اقوالِ بزرگانِ دِین کا مطالعہ کیجئے:حضرت سیدنا سہل تستری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: اخلاص یہ ہے کہ بندے کا ٹھہرنا اور حرکت کرنا سب خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہو۔حضرت سیدنا ابو عثمان نیشاپوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اخلاص یہ ہے کہ فقط خالق کی طرف ہمیشہ متوجہ رہنے کی وجہ سے مخلوق کو دیکھنا بھول جائے۔‘‘ حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْہَادِی فرماتے ہیں: ’’اِخلاص اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور بندے کے درمیان ایک راز ہے، اسے فرشتہ نہ جانے کہ لکھ لے اور شیطان بھی نہ جانے کہ خرابی پیدا کرے اور خواہش نفس کو بھی اس کا علم نہ ہو کہ اسے اپنی طرف مائل کرے۔ حضرت سیدنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حواریوں نے آپ کی بارگاہ میں عرض کی: ’’اَعمال میں خالص کون ہے؟‘‘ فرمایا: ’’جو اللہ عَزَّ َجَلَّ کے لیے عمل کرتا ہےاور پسند نہیں کرتا کہ اس پر کوئی اس کی تعریف کرے۔(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ29تا33)

رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال ﷺ کی بارگاہ اقدس میں ایسے لوگوں کے بارے میں دریافت کیا گیا جو بہادری جتلانے، حمیت اور ریاکاری کے لئے جہاد کرتے ہیں کہ ان میں سے کون راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ کا مجاہد ہے؟ ‘‘ تو خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دین کی سر بلندی کے لئے لڑے وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔ ‘‘ ایک نسخہ میں ہے : ’’ وہی راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ کا مجاہد ہے۔ (صحیح مسلم ،کتاب الامارۃ ،باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ …الخ،الحدیث : ۴۹۲۰،ص۱۰۱۸)

حضور نبی پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ (صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال الخ،الحدیث: ۵۴،ص۷)

ان سب احادیث کو اس لیے ذکر کیا گیا کہ ہم سب کا اللہ پاک کی عبادت کرنے میں دل لگے اور اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے کی توفیق عطاء ہو۔ بیشک اخلاص کے بغیر ہماری نیکیاں کچھ بھی نہیں ہیں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم سب سے جتنا ہو سکے مخلص ہو کر اللہ پاک کی عبادت کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین