شریعت مطہرہ نے جہاں ہمیں عبادات کا حکم دیا اور منہجِ عبادات کو ہمارے لیے بیان کیا وہیں ایک ایسے امر کی طرف ہماری رہنمائی کی جو تمام عبادات و اعمال میں مشترک ہے اور اس کو خاص اہمیت بھی حاصل ہے کہ جس کے بغیر وہ اعمال و عبادات بے معنی و بے کار ہوجاتے ہیں ۔جی ہاں اس چیز کو اخلاص کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

خلاص کی لغوی و اصطلاحی تعریف :اخلاص کا لغوی معنی بے لوثی و نیک نیتی ہے ۔جبکہ اصطلاحی تعریف متعدد کتب میں مختلف الفاظ کے ساتھ بیان کی گئی ہے جن کا مفہوم ایک ہی درس دیتا ہے کہ صرف خالص اللہ تعالی کے لیے عمل کرنا۔

یعنی اللہ کے سوا ہر چیز سے اپنی نگاہ پھیرنا اخلاص کہلاتا ہے ۔(ماخوذ منہاج العابدین صفحہ نمبر 216)

اسی طرح اور بھی کئی صوفیاء نے اخلاص کی تعریف کو اپنی اپنی کتب میں مختلف الفاظ کےساتھ ذکر فرمایا جن کا مفہوم ایک ہی ہے۔

اخلاص کی اہمیت: کتب احادیث میں کئی ایک احادیث سے اخلاص کی اہمیت نمایاں طور پر معلوم ہوتی ہے کہ اعمال کے لیے اخلاص کتنا ضروری ہے: ذیل میں چند احادیث پیش کرتا ہوں:

(1) حضورﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالی صرف اس عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص اس کے لیے کیا جائے اور صرف اس کی رضامندی مقصود ہو۔(سنن نسائی: ۳۱۴۲)

(2) حضرت تمیم داری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :دین تو بس خلوص و خیرخواہی کا نام ہے صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ! کس سے؟ آپ ﷺ نے فرمایا :اللہ تعالی سے، اس کی کتاب سے، اس کے رسول سے، مسلمانوں کے حکام سے اور عوام الناس سے۔(سنن نسائی: ۴۲۰۲)

مذکورہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اعمال و عبادات کی قبولیت کا دارومدار ان میں اخلاص کی شمولیت پر ہے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال میں خواہ وہ دنیوی ہوں یا اخروی صرف رضائے الٰہی کی طرف توجہ رکھیں ۔

اب ان احادیث سے ترہیب حاصل کرتے ہیں جن میں اخلاص کی ضد ریاکاری کی ہولناکی بیان کی گئی ہے کہ جس طرح اخلاص سے اعمال قبولیت کا شرف پاتے ہیں اسی طرح ریاکاری سے بڑے بڑے اعمال بے فائدہ و بے مول ہوجاتے ہیں۔

(1)نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ایک شہید، عالم اور سخی کو بلایا جائے گا مگر ان کے اعمال ریاکاری پر مبنی ہونے کی وجہ سے انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔(اخرجہ مسلم ۱۹۰۵ :ماخوذ منہاج العابدین صفحہ نمبر:214)

(2) وکیع نے سفیان سے اور انھوں نے سلمہ بن کُہیل روایت کی انھوں نے کہا:میں نے حضرت جندب علقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا،انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جو شخص (لوگوں کو)سناتاہے اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں (سب کو) سنوائےگا اور جو (اپناعمل)لوگوں کو دکھاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں لوگوں کو دکھائےگا۔"(صحیح مسلم :۷۴۷۷)

مذکورہ احادیث سے ریاکاری پر مبنی اعمال کی ہلاکت و بربادی معلوم ہوتی ہے اسی طرح ایک حدیث میں ریاکاری کو شرک اصغر بھی کہا گیا ہےلہذا جب بغیر اخلاص کے اعمال کا کوئی مول نہیں تو ایک عقلمند شخص کبھی بھی محنت و مشقت سے کیے ہوئے اعمال کو ریاکاری کے سبب ضائع نہیں کرے گا ۔

اخلاص اعمال کی روح ہے جو کہ جسم میں موجود روح کی مانند ہے جیسے بغیر روح کے جسمِ انسانی بے حس و مردہ ہوجاتا ہے یوں ہی بغیر اخلاص کے اعمال بھی بےکار و ضائع ہوجاتے ہیں لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال و افعال میں اپنی نیت کا مرکز خالص رب ذو الجلال کو بنائے اور اسکی رحمت کا طلبگار رہےاور اسکی بارگاہِ عالیہ میں اپنے عبادات ناقصہ کے شرفِ قبولیت کے حصول کے لیے ہمیشہ عاجزانہ طور پر دعاگو رہے۔

اللہ پاک ہمیں عبادات میں اخلاص عطا فرمائے آمین۔