پیارے اسلامی بھائیو! نیکی کا نور اسی وقت دلوں کو منور کرتا ہے جب اس کی بنیاد خلوص پر رکھی جائے۔             

اِخلاص کی تعریف:‏ کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! کثیر احادیث میں اخلاص کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کے فضائل بیان ہوئے ہیں ، ان میں سے" 5 "احادیث درج ذیل ہیں :

(1)حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ص ﷺ نے ارشادفرمایا: ‏‏‏‏‏‏ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ:‏‏‏‏ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمُنَاصَحَةُ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الدَّعْوَةَ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ جس مسلمان میں یہ تین اوصاف ہوں اس کے دل میں کبھی کھوٹ نہ ہو گا:(1) اس کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ہو۔ (2)وہ آئمہ مسلمین کے لئے خیر خواہی کرے۔ (3)اور مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑ لے۔ (ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی الحث علی تبلیغ السماع، ۴ / ۲۹۹، الحدیث: ۲۶۶۷)

(2)حضرت سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: إِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِضَعِيفِهَا، ‏‏‏‏‏‏بِدَعْوَتِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَاتِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِخْلَاصِهِمْاللہ تعالیٰ اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں ، ان کی نمازوں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے اِس امت کی مدد فرماتا ہے۔ (نسائی، کتاب الجہاد، الاستنصار بالضعیف، ص۵۱۸، الحدیث: ۳۱۷۵)

(3)حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب تاجدارِ رسالت ص ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا تو انہوں نے عرض کی:یا رسولَ اللہ ! مجھے کوئی وصیت کیجئے۔ رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے دین میں اخلاص رکھو ،تمہا را تھوڑا عمل بھی کافی ہو گا۔ (مستدرک، کتاب الرقاق، ۵ / ۴۳۵، الحدیث: ۷۹۱۴)

(4)حضرت عبدالله بن عمر رضى الله عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے کسی شخص سے پوچھا: فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ لَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا فَعَلْتُ قال: فقال له جبريل عليه السلام: قد فعل، وَلَكِنْ غُفِرَ لَه بِالْإِخْلَاصِکہ تم نہ یہ کام کیا ہے؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! نہیں، اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، میں نے یہ کام نہیں کیا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جبريل علیہ السلام نے عرض کیا: وہ کام اس نے کیا تھا لیکن اخلاص کے ساتھ " لاالہ الا اللہ " کہنے کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔(مسند احمد، کتاب مرویات عبد اللہ بن عمر، باب مرویات عبد اللہ بن عمر، ۹ / ۲۶۳، الحدیث: ۵۷۱۴)

(5)حضرت عبدالله بن عبد الرحمن بن ابزی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح ہوتی تو یہ دعا فرماتے: أَصْبَحْنَا عَلَی فِطْرَۃِ الإِسْلامِ ، وَکَلِمَۃِ الإِخْلاصِ ، وَدِینِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ ، وَمِلَّۃِ أَبِینَا إِبْرَاہِیمَ حَنِیفًا ، وَمَا کان مِنَ الْمُشْرِکِینَ ہم نے صبح کی فطرتِ اسلام پر، اور اخلاص سے بھرے کلمہ پر، اور ہمارے نبی محمد ﷺ کے دین پر، اور ہمارے والد حضرت ابراہیم کی ملت حنیفہ پر، اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھے۔(ابن ابی شیبہ، کتاب الدعاء، باب ما یستحب أن یُدعی بہ صباحاً، ۱۴ / ۴۸۶، الحدیث: ۲۹۸۸۶)

اے عاشقانِ رسول! اخلاصِ نیت وہ عظیم دولت ہے جس کے بغیر بڑے سے بڑا عمل بھی وزن نہیں رکھتا۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر نیکی سے قبل، درمیان اور بعد میں اپنی نیت کا محاسبہ کرتے رہیں، اور دعا کریں کہ اللہ پاک ہمیں ریاکاری، دکھاوے اور شہرت پسندی سے بچا کر ہر عمل صرف اپنی رضا کے لیے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔الٰہی! ہمیں اخلاص کی حقیقی دولت نصیب فرما۔ آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ