محدود آمدنی اور گھر کا بجٹ از بنت فضل الہی،فیضان ام عطار
شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اللہ
تعالیٰ ہر انسان کو مختلف ذرائع سے آزماتا ہے۔ کوئی زیادہ مالدار ہے تو کوئی کم مالدار ہوتا ہے اور محدود آمدنی کے
ذریعے اپنی زندگی گزار لیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں ہمیں ایسی ہدایات دی گئی ہیں جو محدود آمدنی والے افراد کو صرف صبر،
شکر کرنا سکھاتی ہیں ۔
قرآن
کی روشنی میں:
وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ
مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ
مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا(۲۹) (پ 15، الاسراء: 29) ترجمہ: اور اپنا ہاتھ
اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ ہی اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دے، کہ بعد میں
ملامت زدہ اور حسرت زدہ بیٹھا رہ جائے۔
اس آیت سے
واضح ہوتا ہے کہ فضول خرچی اور بے جا کنجوسی دونوں قابلِ مذمت ہیں۔ اسلام اعتدال
اور توازن کا دین ہے اور گھر کا بجٹ بناتے وقت اسی توازن کا خیال رکھنا چاہیے۔
احادیثِ
مبارکہ:
نیز فرمایا: عقلمند
وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور آخرت کے لیے عمل کرے۔ (ترمذی، 4/207، حدیث:
2467)
یہ احادیث
ہمیں سکھاتی ہیں کہ آمدنی خواہ کم ہو، اگر انسان عقل مندی اور دین کی روشنی میں
خرچ کرے تو نہ صرف دنیا میں عزت سے جی سکتا ہے بلکہ آخرت میں بھی کامیاب ہو سکتا
ہے۔
محدود آمدنی
کا مطلب ہے کہ انسان کی ضروریات اس کی آمدنی سے زیادہ نہ ہوں۔ اس کے لیے سب سے
پہلے انسان کو قناعت کی صفت اپنانا ہوگی۔ قناعت کا مطلب ہے کہ جو کچھ اللہ نے دیا
ہے، اس پر دل سے راضی رہنا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: وہ شخص کامیاب ہے جو اسلام لایا، جسے
بقدرِ کفایت رزق دیا گیا اور اللہ نے اسے اپنے دیے ہوئے پر قناعت عطا فرمائی۔ (مسلم،
ص 406، حدیث: 2426)
گھر
کے بجٹ کی ضرورت: محدود
آمدنی والے افراد اگر بغیر منصوبہ بندی کے خرچ کریں تو بہت جلد تنگی میں مبتلا ہو
جاتے ہیں۔ اس لیے اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم ترتیب سے خرچ کریں، فضول خرچی سے
بچیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کو نہ بھولیں۔
بجٹ
سازی کے اسلامی اصول:
آمدنی کا
جائزہ لیں کتنی آمدنی ہے اور وہ کہاں کہاں خرچ ہو رہی ہے۔ ضروریات و ترجیحات طے
کریں خو راک، لباس، تعلیم، علاج اور رہائش جیسی بنیادی ضروریات کو پہلے رکھیں۔ زکوٰۃ
اور صدقہ نہ بھولیے خواہ تھوڑا ہی ہو، اللہ کی راہ میں دینا باعثِ برکت ہے۔
اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا
اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ- (پ 15،
الاسراء: 27) ترجمہ: بے شک فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں۔
ادھار
سے پرہیز کریں: قرض
صرف ضرورت کے وقت اور سوچ سمجھ کر لینا چاہیے تاکہ بعد میں پریشانی نہ ہو۔
منظم خرچ سے
گھر میں جھگڑے کم ہوتے ہیں۔
برکت شکر
گزاری اور صدقہ کرنے سے اللہ آمدنی میں برکت دیتا ہے۔
عزت نفس کی
حفاظت کفایت شعاری سے انسان دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچتا ہے۔
بے چینی و
پریشانی بے ترتیب خرچ مالی دباؤ پیدا کرتا ہے۔
اللہ پاک ہمیں
اپنے دیئے ہوئے مال کو اچھے طریقے سے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
Dawateislami