دنیا میں اللہ پاک نے تمام انسانوں کو ایک جیسا رزق عطا نہیں فرمایا، بعض لوگ امیر ہیں، بعض لوگ غریب ہیں اور بعض متوسط (یعنی درمیانے نہ امیر نہ غریب) ہیں اس میں اللہ پاک کی بے شمار حکمتیں ہیں ۔ ان میں سے ایک حکمت اس حدیث قدسی میں بیان ہوئی ہے چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : میرے بعض مومن بندے ایسے ہیں جنکے ایمان کی بھلائی مالدار ہونے میں ہے اگر میں انہیں مالدار نہ کروں تو وہ کفر میں مبتلا ہو جائیں گے اور میرے بعض مومن بندے ایسے ہیں کہ انکے ایمان کی بھلائی مالدار نہ ہونے میں ہے اگر میں انہیں مالدار کروں تو وہ کفر میں مبتلا ہو جائیں گے۔ (ابن عساکر، 7/96)

بعض متوسط اور غریب لوگ آمدنی کم اور اخراجات کے زیادہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہو کر اللہ پاک کی جناب میں نا مناسب اور بسا اوقات کفریہ الفاظ بھی بول دیتے ہیں اور انمول دولت ”ایمان“ سے محروم ہو جاتے ہیں تھوڑی آمدنی کی صورت میں اللہ پاک کی رضا میں راضی رہتے ہوئے صبر و قناعت کے ساتھ زندگی گزارئیے اور اسکے فائدے حاصل کیجیے۔

تھوڑے رزق پر راضی رہنے کا فائدہ: رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو اللہ پاک سے تھوڑے رزق پر راضی رہتا ہے اللہ پاک اسکے تھوڑے عمل سے راضی ہو جاتا ہے۔ (شعب الایمان، 4/139، حدیث : 4585)

کم آمدنی میں بھی پرسکون رہنے کے چند طریقے: (1) ماہانہ راشن، ٹرانسپورٹیشن (سفری اخراجات) ،گیس،بجلی اگر کرائے کا گھر ہے تو اسکا کرایہ اور بچے ہیں تو انکے تعلیمی اخراجات وغیرہ کا اپنی آمدنی کے مطابق ہی بجٹ بنائیے پھر اس پر قائم بھی رہئے۔ (2) گھر والوں کو چاہئے کہ گھر کے سربراہ یا کمانے والے فرد پر زیادہ کمانے کا دباؤ ڈالنے کے بجائے خود کو کم خرچ پر آمادہ کریں۔ آپکے پریشر ڈالنے کی وجہ سے زیادہ کمانے کے چکر میں کہیں وہ دھوکا دہی اور کرپشن (بد عنوانی /حرام روزی کمانے) میں مبتلا نہ ہو جائے۔

اخراجات کم کرنے کے چند طریقے : لوگ عموماً آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے اس بات کی فکر میں رہتے ہیں کہ سیلری بڑھ جائے یا میری اِنکم کے ذرائع بڑھ جائیں۔جبکہ اپنے اخراجات کم کرنے کا ذہن کسی کسی کو ہوتا ہے چنانچہ اخراجات کم کرنے کے چند طریقے ملاحظہ فرمائیے: (1) تمام فیملی ممبران آپس میں مشورہ کر کے یہ طے کریں کہ گھر میں جو شخص اچھے انداز سے خریداری کرنا جانتا ہو گھر کا راشن اور دیگر سامان لینے کی ذمہ داری اس کے حوالے کی جائے (2) جو خریدنا ہو اسکی لسٹ پہلے ہی بنالی جائے اور پھر خریداری کے لئے جایا جائے اور بہتر یہی ہے کہ ہول سیل والی قیمت پر ہی اشیا خریدی جائیں (3) شادی بیاہ اور دیگر اس طرح کے ایوینٹس پر غور کر لیا جائے کہ اگر پہلے سے موجود کپڑے اور جوتے وغیرہ پروگرام میں پہننے کے قابل ہوں تو نئے لینے کے بجائے انہی سے کام چلایا جائے (4) جو بچے تعلیم کے لئے جاتے ہیں انکا لنچ باکس گھر میں ہی بنا کر دیا جائے اسی طرح جو افراد دفتر وغیرہ جاتے ہیں باہر سے کھانا لینے کے بجائے گھر ہی سے لینا شروع کر دیں (5) بجلی سے چلنے والے آلات کو بقدر ضرورت ہی استعمال کریں ضرورت پوری ہو جائے تو بند کر دیں۔

رزق میں برکت: آمدنی چاہے کم ہو یا زیادہ جب تک اس میں برکت نہیں ہو گی بچت کی کوئی بھی تدبیر کار گر نہیں ہو گی لہذا رزق میں برکت کے چند مدنی پھول پیش خدمت ہیں: (1) کھانا کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونا رزق میں برکت لاتا ہے (2) گھر میں داخل ہوتے ہی سلام اور سورہ اخلاص پڑھنے سے رزق میں برکت ہوتی ہے (3) جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے رزق میں برکت ہوتی ہے (4) سچ بولنے سے رزق میں برکت ہوتی ہے (5) بسم اللہ شریف پڑھ کر کھانا کھانے سے رزق میں برکت ہوتی ہے۔

میری تمام عاشقات رسول سے فریاد ہے کہ ذکر کئے گئے مدنی پھولوں پر عمل اور سادہ طرز زندگی (Life style) اپنا کر اپنے گھریلو اخراجات پر قابو پائیے ان شاء اللہ دین و دنیا کی بے شمار برکات نصیب ہوں گی۔