مسلمانوں پر
ظلم اور امت مسلمہ کی خاموشی از بنت ساجد علی، سرجانی ٹاؤن کراچی
مسلمانوں پر
ظلم ہونےکی صورت میں امت مسلمہ کی خاموشی قابل تشویش اور ایک بدترین جرم ہے جس کی
مذمت قرآن پاک میں بھی کئی مقامات پر کی گئی ہے اور مظلوم کی مدد کرنے پر ابھارا
گیا ہے۔ ان میں سے ایک واضح آیت یہ ہے: وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ
فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ (پ 4، النساء: 75) ترجمہ کنز الایمان: اور تمہیں کیا
ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے۔
یہ آیت
مظلوموں کی مدد کرنے اور ان کے حق میں جدوجہد کرنے کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ اس
آیت میں مسلمانوں کے جذبے کو ابھارا گیا ہے کہ وہ مکے میں مشرکین کے ہاتھوں قید
ہونے والے مسلمانوں کی مدد کریں مکہ کے مشرکین مسلمانوں پر بیجا ظلم کرتے تھے یہاں
تک کہ انہوں نے عورتوں بچوں کو بھی نہیں چھوڑا تھا کفار کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ
مسلمانوں کو اپنے ظلم کا شکار بناتے ہیں ایسے میں مظلوم مسلمانوں کی مدد نہ کرنا
اور ان پر ہونے والے ظلم پر خاموشی اختیار کرنا ایک جرم ہے۔
رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: ترجمہ: مؤمن آپس کی محبت، رحمت اور شفقت میں ایک جسم کی مانند ہیں، جب
کسی ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم بے خوابی اور بخار کی سی کیفیت میں
مبتلا ہو جاتا ہے۔ (بخاری،4/103، حدیث: 6011)
یہ حدیث اس
بات پر زور دیتی ہے کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کوئی مسلمان اگر مظلوم ہے تو تمام
امت مسلمہ کو اس کا درد محسوس ہونا چاہیے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ قرآن و حدیث
ہمیں جس بات کا سبق دیتے ہیں آج ہماری حالت اس کے برعکس ہے۔
اگر ہم اس کے
اسباب پر غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ اس خاموشی کی وجہ کیا ہے۔
دنیاوی
مصلحتیں: اس
کے اسباب میں سب سے بڑی وجہ کچھ دنیاوی مصلحتوں کی وجہ سے مسلمان حکمرانوں کی
خاموشی ہے جس کی وجہ سے دشمن مزید طاقتور اور دلیر ہوتا جا رہا ہے۔
عالمی
طاقتوں کا دباؤ: اس
کا دوسرا سبب عالمی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے جھک جانا ہے اگر ہم اپنے اسلاف کی
زندگی پر غور کریں تو ہمارے اسلاف کسی کے رعب اور دبدبے میں نہیں آتے تھے۔
اسلامی
تعلیمات سے انحراف: اس کا تیسرا سبب اسلامی تعلیمات سے انحراف بھی ہے
اسلامی تعلیمات سے دور ہونے کی وجہ سے مسلمان پست سے پست ہوتا چلا جا رہا ہے جب کہ
ہمارے اسلاف اسلامی تعلیمات پر کاربند ہونے کی وجہ سے دلیر ہوا کرتے تھے اور کسی
دنیاوی طاقت کے دباؤ میں نہیں آتے تھے۔
وقار
کا متاثر ہونا: مسلمانوں
کی بے عملی اور اسلامی تعلیمات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے انکا وقار بھی متاثر ہوچکا
ہے جسکی وجہ سے اسلام کی دشمن طاقتیں خوب سر اٹھا رہی ہیں اور کمزور اور بے بس
مسلمانوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا کر ساری دنیا میں اپنی دھاک بٹھانے کی کوششیں
کر رہی ہیں۔
اس
کا حل کیا؟ امت
مسلمہ کو متحد اور مشترکہ حکمت عملی کو اختیار کرنا ہوگا، سفارت کاری
میڈیا اور
تعلیمی میدان میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، عوامی سطح پر شعور بیدار کرنا ہوگا، ظلم
کے خلاف کم از کم زبانی اور فکری مزاحمت کریں۔ دعا کریں کہ
اے
خاصۂ خاصان رسل وقت دعا ہے امت
پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
Dawateislami