مسلمانوں پر
ظلم اور امت مسلمہ کی خاموشی از بنت منور خان،ناظم آباد نمبر 1 کراچی
دنیا کے مختلف
حصوں میں آج مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ کہیں فلسطین کے معصوم
بچے بمباری کا شکار ہیں، کہیں کشمیر میں نوجوانوں کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت
کرنا پڑ رہی ہیں، کبھی برما (میانمار) میں مسلمان نسل کشی کا نشانہ بنتے ہیں یہ سب
منظر نامے امتِ مسلمہ کے دل کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہیں، مگر افسوس کہ پوری
امت ایک خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔
مظلوم
مسلمان: مسلمان
قوم جن اصولوں پر کھڑی ہوئی تھی، وہ عدل، بھائی چارہ اور ایک دوسرے کے درد میں
شریک ہونے پر مبنی تھے۔ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ (پ
26، الحجرات: 10) ترجمہ: بے شک تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
لیکن آج عملی
طور پر یہ بھائی چارہ کہیں نظر نہیں آتا۔ طاقتور اسلامی ممالک اپنے مفادات میں
الجھے ہوئے ہیں، اور کمزور ممالک اپنے داخلی مسائل میں۔
امتِ
مسلمہ کی خاموشی: یہ
خاموشی دراصل مجرمانہ غفلت بن چکی ہے۔ جب ہم ظالم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے تو ہم
بھی ظلم میں شریک ہو جاتے ہیں۔
حضورِ اکرم ﷺ
نے فرمایا: لوگ جب ظالم كو ظلم کرتا ہوا دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو قریب ہے کہ
اللہ کی طرف سے ان سب پر عذاب نازل ہوجائے۔ (ابو داود، 4/163، حدیث: 4338)
قرآنِ پاک میں
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی
الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ (پ 10، الانفال: 72) ترجمہ: اگر وہ تم سے دین کے معاملے
میں مدد مانگیں تو تم پر مدد کرنا لازم ہے۔
فلسطین وہ
مقدس سرزمین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے برکتوں سے نوازا، جہاں انبیاء علیہم السلام کے
قدموں کی خاک ہے، اور جہاں قبلۂ اوّل بیت المقدس واقع ہے۔ مگر افسوس کہ آج یہی
سرزمین ظلم و بربریت کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔
فلسطین
پر ظلم: پچھلی
کئی دہائیوں سے فلسطینی عوام صہیونی ریاست کے ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ ان کے گھروں
کو مسمار کیا جا رہا ہے، مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی کی جا رہی ہے، معصوم بچوں،
عورتوں اور بزرگوں پر بم برسائے جا رہے ہیں۔ دنیا کے سامنے نسل کشی جاری ہے، لیکن
انصاف کے علمبردار خاموش ہیں۔
اسلام ایک
ایسا مذہب ہے جو ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور مظلوم کا ساتھ دینے کا حکم دیتا
ہے۔
مظلوموں
کی مدد کا حکم: وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ
اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ
وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ (پ 4، النساء: 75) ترجمہ کنز الایمان: اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو
اللہ کی راہ میں اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے۔
یہ آیت واضح
کرتی ہے کہ مظلوموں کی مدد اور ظلم کے خلاف جہاد ایمان کا تقاضا ہے۔
آج دنیا میں
تقریبا 57 مسلم ممالک ہیں، جن کے پاس وسائل، افواج، اور سفارتی کسی سیاسی مجبوری
سے زیادہ، ایمانی کمزور اور ضمیر کی غفلت ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ
نے فرمایا: مومن ایک جسم کی مانند ہیں، اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہو تو پورا
جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ (بخاری،4/103،
حدیث: 6011) لیکن
آج ہم میں وہ احساس ختم ہوتا جا رہا ہے۔
اے امتِ
مسلمہ! یہ وقت ہے کہ ہم خوابِ غفلت سے جاگ جائیں۔ فلسطین صرف ایک ملک نہیں، یہ
ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اگر آج ہم نے مظلوموں کی مدد نہ کی، تو کل ہم بھی مظلوم
ہوں گے اور کوئی ہماری مدد نہیں کرے گا۔
Dawateislami