میرے عزیز دوستوں بھائیوں قرضدار کو مہلت دینا اس پر نرمی و شفقت کرنا اس کا تو خود ہمارے رب کریم نے حکم فرمایا ہے میرا رب سورۃ البقرہ آیت نمبر 280 میں فرماتا ہے :

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ،

جیساکہ نبیِ کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام کا ارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا گیا: غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما د ۔ (بخاری،ج2،ص460،حدیث:3451)

میرے دوستوں مقروض پر نرمی کرنا یہ تعلیم نبوی ہے اس مناسبت سے کچھ وہ احادیث جو مقروض پر نرمی کرنے کے حوالے سے وارد ہوئے ہیں وہ درج ذیل ہیں :

(1) نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے: جو کسی تنگدست (مقروض) پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ،ج 3،ص147، حديث: 2417)

(2)جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کا قرض مُعاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن عَرْش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی،ج3،ص 52، حديث:1310)

(3)حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جواس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی دعائیں قبول ہوں اور پر یشانیاں دور ہوں تو اسے چاہیے کہ تنگدست کومہلت دیاکرے ۔ (مجمع الزوائد، کتا ب البیوع ،با ب فی من فرج عن معسر،،،الخ ، ۴/ ۲۳۹، حدیث:۶۶۶۴)

(4)حضرت سیِّدُنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے سب سے آخری نبی، محمد عربی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے قرض کی ادائیگی کے وقت سے پہلے تنگدست کو مہلت دی اسے روزانہ اتنا مال صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا اور جس نے وقْتِ ادائیگی کے بعد مہلت دی تو اسے روزانہ اس سے دُگنا مال صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ۔ ‘‘(مجمع الزوائد، کتاب البیوع، با ب فی من فر ج عن معسر،،،الخ، ۴/ ۲۴۲، حدیث:۶۶۷۶)