احمد رضا بن محمد شریف (مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ
کراچی، پاکستان)
اسلامی
معاشرت کا حسن باہمی تعاون، ہمدردی اور ایک دوسرے کے ساتھ نرمی برتنے میں پنہاں ہے
۔ یہ وہ بنیادی اصول ہیں جن کی تعلیم
ہمارے پیارے نبی، حضرت محمد ﷺ نے دی، اور انہی میں سے ایک اہم پہلو مقروض پر
نرمی کا معاملہ ہے ۔ قرض لینا ایک انسانی
مجبوری ہو سکتی ہے اور اسلام نے قرض دینے والے کو جہاں اجر کی بشارت دی ہے، وہیں
وصولی کے وقت مقروض کی حالت کا خاص خیال رکھنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ یہ ایک ایسا علمی انداز ہے جو عام فہم ہونے کے
ساتھ ساتھ انسانیت کی بہترین عکاسی کرتا ہے ۔
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا
ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے
اگر جانو ۔ (البقرۃ:280)
اس آیت سے
پتا چلتا ہے کہ اگر کوئی انسان تنگدست ونادار وغریب ہےتو اسکو کچھ قرض معاف
کرنا یا اس کو مہلت دینا یا پورا قرض ھی معاف کر دینا بڑے اجر و ثواب کا باعث ہے ۔
احادیث
میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ ا س کے5فضائل درجِ ذیل ہیں :
(1)حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ َ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو
کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو
مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار
المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳)
(2)حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ َ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ
دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے
میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء
فی انظار المعسرالخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)
(3)حضرت
جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ َ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ
اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی
الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )
(4) حضرت
حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ َ نے ارشاد فرمایا:’’
گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا
کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں
ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں
سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت
مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا
۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم
اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، ۹ / ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳،
مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰))
(5) اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس
معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’
میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر
کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ
والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰))
امامِ اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور مجوسی قرضدار: امام فخر
الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’منقول ہے کہ ایک مجوسی
پر امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی
وصولی کے لئے ا س مجوسی کے گھر کی طرف گئے ۔ جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتے پر نجاست لگ گئی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے
کو جھاڑا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ا س عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ
کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی ۔ یہ دیکھ کر
آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس
مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی
اکھڑے گی ۔ اسی پریشانی کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک لونڈی باہر نکلی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
نے اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود ہے ۔ وہ مجوسی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے
پاس آیا اور ا س نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنے قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے
آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی ۔ امام
ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی
بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیوار پر نجاست
لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر)
اس مجوسی نے عرض کی :میں (دیوارکی صفائی کرنے کی) ابتداء اپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا
ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا ۔ (تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک یوم الدین، ۱ / ۲۰۴)
مقروض پر
نرمی کا نبوی حکم:تحریر کا مرکزی خیال یہ ہے کہ مقروض کے ساتھ نرمی
برتنا اسلامی معاشرت کا بنیادی اصول اور دین کا تقاضا ہے ۔ قرآن و حدیث دونوں نے
اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر قرض لینے والا واقعی تنگدست اور پریشان ہو تو قرض دینے
والا اسے مہلت دے یا قرض معاف کردے ۔
نبی
اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق، مقروض پر نرمی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن
عرش کا سایہ عطا فرمائےگا ، اور یہ عمل گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بنتا ہے ۔ یہاں تک کہ مہلت دینے پر ہر دن صدقے کا ثواب بھی
ملتا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں تقاضا کرتے وقت ہمیشہ آسانی،
شائستگی اور شفقت کا راستہ اپنانا چاہیے، کیونکہ اللہ کی رحمت بھی اسی شخص پر ہوتی
ہے جو اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے ۔
دین اسلام
ایک ایسا دین ہےجہاں مَقْرُوض سے ہمیشہ نرمی اور حُسْنِ سُلوک سے پیش آناچاہئے ۔
ضَرورت مندوں کو قَرْض دینا اور قَرْض کی بہترین ادائیگی کرنا، اسلام میں جہاں اس
کی ترغیب ہے وہیں تنگدَسْت مقروض سے شفقت و مہربانی اور نرمی سے پیش آنا بھی اسلامی تعلیمات کا روشن باب ہے
۔ قرض دینے کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ضَرورت مند کی مَعاشی اور گھریلو پریشانیاں
خَتْم ہوجائیں،اس سوچ کےتحت اچّھی اچّھی نیتوں کے ساتھ دیا جانے والاقرض ثواب کا
ذریعہ بھی بنے گا ۔ مقروض پر نرمی کے طریقے نہایت آسان اور نَرْم شرائط رکھی جائیں ۔ ایسی کڑی شرائط رکھ دینا کہ مقروض پِس کے رہ
جائے باہَمی اُلْفت کو ختم کرنے کا سبب بن سکتا ہے ۔ یَکْمُشْت ادائیگی نہ کر سکنے کی صورت میں
قِسْطوں میں تقسیم کر دیجئے ۔ وُصُول کرتے
ہوئے رَویہّ میں نَرْمی بہت ضَروری ہے، ادائیگی میں تاخیر پر خوامخواہ شور مچانا،
باتیں سنانا مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے مزید اُلجھا دےگا ۔ اگر قُدْرت ہو تو مکمل یا
کچھ مُعاف کر دیجئے ۔ افسوس! آج کل ہمارے
یہاں مقروض سے نرمی کا تصور ختم ہوتا جارہا ہے حالانکہ اس کے بہت فضائل ہیں ۔
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے
تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلا ہے
اگر جانو ۔ (البقرۃ:280)
3 فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
(1) جو کسی
تنگدست (مقروض) پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ،ج 3،ص147، حديث: 2417)
(2)جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کاقرض مُعاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن
عَرْش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ
ہوگا ۔ (ترمذی،ج3،ص 52، حديث:1310)
(3) نبیِّ کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام کاارشاد
ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا
تو اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا گیا:غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا اور کچھ نہیں جانتا کہ میں
دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا
اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما دیا ۔
(بخاری،ج2،ص460،حدیث:3451)
مقروض سے زیادَتی کی مثالیں افسوس! ہمارے ہاں ایک
تعداد سُودی قرضے دینے پر تو آمادہ نظر آتی ہے مگر بغیر نفع کےقرضِ حَسَنہ دیتے
ہوئے ان کی جان جاتی ہے حالانکہ سُودی لین دین دنیا و آخرت کی تباہی کا سبب ہے
۔ بعض لوگ مقروض کی بے بسی کا فائدہ اس
طرح سے اٹھاتے ہیں کہ اسے اپنا زَرخرید غلام سمجھ لیتے ہیں خصوصاً گاؤں کوٹھوں میں
یہ صورتحال زیادہ ہے کہ مقروض کے پورے کنبے کو اپنا غلام تصور کیا جاتا ہے ۔ انہیں بلیک میل کرنا، ڈرانا دھمکانا عام ہے ۔ بعض لوگ مقروض کی عزّتِ نفس کو مَجْروح کرتے نظر آتے ہیں،اس طرح کہ ادائیگی میں تاخیر
ہونے پر مقروض کی بے عزّتی کرنے میں ذرا
بھی نہیں ہچکچاتے ۔ مکان یا دکان کاکرایہ
مانگتے ہوئے جان بوجھ کر شور مچاکر پڑوسیوں کو جمع کرتے ہیں اور پھر سب کے سامنے
مقروض کی عزت کی دھجّیاں بَکھیرتے اور اِیذائےمسلم جیسے کبیرہ گناہ میں مُلَوَّث
نظر آتے ہیں ۔ ایسوں کو بھی مقروض سے نرمی
اور آسانی کا مُظاہرہ کرنا چاہئے ۔
اگر قرض
دار مالدار ہے اور ادائیگی پر قادر ہونے کے باوجود قرض ادا نہ کرے تو قرض خواہ سختی
کے ساتھ آپنے قرض کا مطالبہ کرسکتا ہے امام اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: جو دے سکتاہے اور بلاوجہ لیت ولعل کرے وہ ظالم ہے
اور اس پر تشنیع وملامت جائز ۔ (فتاویٰ رضویہ ،ج 23،ص286)
معاشرتی
فائدہ:ایسی نرمی سے معاشرے میں سختی، نفرت اور دشمنی کم ہوتی ہے اور محبت، اخوت
اور تعاون بڑھتا ہے ۔ اگر ہم نبی ﷺ کی ان
تعلیمات پر عمل کریں تو ہمارا معاشرہ ایک ہمدرد اور انصاف پسند معاشرہ بن جائے ۔
مقروض پر
نرمی کرنا نہ صرف ایک اخلاقی خوبی ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم اجر کا سبب
بھی بنتی ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرض کے
معاملات میں آسانی پیدا کریں، تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہو ۔
عامر فرید (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظیم
سادھوکی لاہور، پاکستان)
"مقروض
پر نرمی" ایک نہایت خوبصورت اور اخلاقی تصور ہے جو قرآن و سنت میں بار بار
تاکید کے ساتھ بیان ہوا ہے ۔ اس کا مطلب
ہے کہ جس شخص پر قرض ہے ، اگر وہ ادائیگی میں تنگی یا مجبوری کا شکار ہے ، تو اس
کے ساتھ سختی نہ کی جائے بلکہ نرمی، مہلت اور ہمدردی سے پیش آیا جائے ۔
(1)غریب کو
قرض معاف کر دینے کی فضیلت: نبیِّ کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام کاارشاد ہے:
تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو
اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا گیا:غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا اور کچھ نہیں جانتا کہ میں
دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا
اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما دیا ۔ (بخاری،ج2،ص460،حدیث:3451)
(2)دنیا
اور آخرت میں بھلائی:فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ
وسلَّم جو کسی تنگدست (مقروض) پر آسانی
کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس
پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ،ج
3،ص147، حديث: 2417)
(3)قیامت کے دن سختیوں سے نجات :حضرت عبد
اللہ بن ابی قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے مقروض کو طلب کیاتو(قرض کی ادائیگی پر قادر
نہ ہونے کی وجہ سے)وہ چھپ گیا،پھر بعد میں انہوں نے اسے پالیا(اور اس سے چھپ جانے
کی وجہ پوچھی )تو اس نے کہا:میں تنگ دست ہوں،حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے
پوچھا:خدا کی قسم(ایساہی ہے)؟اس نے کہا:خدا کی قسم(ایسا ہی ہے)،اس پر حضرت
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:جس شخص کو یہ
بات پسند ہو کہ اللہ تعالی اسے قیامت کے
دن کی سختیوں سے نجات دےتو اسے چاہیے کہ
وہ(قرض کی ادائیگی میں ) تنگ دست(مقروض) کو مہلت دے یا اس کا(پورا یاکچھ)قرض معاف کردے (صحيح
مسلم، كتاب المساقاة، باب فضل إنظار المعسر، 3/1196، رقم:1563، ط: دار إحياء
التراث العربی بيروت)
(4)عرش کے
سائے میں رکھے گا :حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ص
ﷺ نے ارشاد فرمایا :جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ
تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو
گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی
انظار المعسر الخ، 3 / 52، الحدیث: 1310)
(5)قیامت
کے دن تکلیفوں سے نجات :حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا
اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845
الحدیث: 32(1563)
اللہ پاک
قرآن کریم میں سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 280 میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمۂ کنز
الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل
چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلا ہے اگر جانو ۔
اس آیت
مبارکہ کے تحت مفتی محمد قاسم عطاری نقل فرماتے ہیں :وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں
سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور
ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا
تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں
لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۰، ۱ / ۲۱۸)
اس سے ثابت
ہوا قرض دار پر شفقت کرنی چاہیے کیونکہ رب عزوجل نے قرآن مجید میں نرمی کرنے کی
ترغیب دلائی ہے قرض دار ،مقروض پر نرمی کے بارے میں کئی احادیث وارد ہوئی ہیں اس
کو مہلت دینا بھی نرمی میں داخل ہے اور اسکو معاف کر دینا بھی نرمی میں داخل ہے آئیں
ہم آپ کو نبی پاک ﷺ کے فرمان مبارک مقروض پر نرمی کے فضائل سنتے ہے:
مُسلِم شریف
کی حدیث ہے: سیِّدِعالم ﷺ َ نے فرمایا : جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرضہ معاف کیا اللہ تَعَالٰی اس کو اپنا
سایۂ رحمت عطا فرمائے گا جس روز اس کے سایہ کے سِوا کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ “
اسی طرح
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :سرکارِمدینۂ
منوَّرہ، سردارِ مکۂ مکرَّمہ ﷺ َ کافرمانِ عالیشان ہے : جس شخص کو یہ بات پسند
ہو کہ اللہ تَعَالٰی اسے قیامت کے دن غم سے بچائے، تو اُسے چاہیے کہ تنگدست قرضدار
کومُہْلَت دے یا قر ض کا بوجھ اس کے اُوپر سے اُتاردے(یعنی معاف کردے) ۔ (
مُسْلِم، کتاب المساقاة، باب فضل اِنظار المعسر، ص۸۴۵، حدیث : ۱۵۶۳)
اسی طرح
موجودہ زمانے میں دیکھا جائے جب ہر تیسرا شخص حالات کے ہاتھوں پریشان ہے تو ہمیں
بھی پیارے آقا کی سنتوں کواپنا کر اپنے مقروضوں نرمی والا معاملہ کرنا چاہیے اور
ان احادیث پرعمل کرنا چاہیے آج کے دور میں غریب تو ہے لیکن سرمائے دار بھی پریشان
نظر آتے ہیں قرض دار کو مہلت و نرمی والا معاملہ کرنا چاہیے حدیث پاک میں ہے ۔
حضرت حذیفہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے نبی پاک ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ
آپ ﷺ نے
فرمایا کہ ایک شخص کا انتقال ہوا ( قبر میں ) اس سے سوال ہوا، تمہارے پا س کوئی نیکی
ہے؟ اس نے کہا کہ میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا تھا ۔ ( اور جب کسی پر میرا قرض ہوتا ) تو میں
مالداروں کو مہلت دیا کرتاتھا اور تنگ دستوں کے قرض کو معاف کر دیا کرتا تھا اس پر
اس کی بخشش ہو گئی ۔
(صحيح
البخاری ،کتاب فی الِاسْتِقْرَاضِ
وَأَدَاءِ الدُّيُونِ ،حدیث 2391)
نبی کریم ﷺ
نے مقروض کی تنگدستی کے وقت اس پر سختی کرنے سے منع فرمایا اور قرض خواہ کو ترغیب
دی کہ وہ یا تو اسے مہلت دے، یا اگر ممکن ہو تو معاف ہی کر دے ۔ اس عمل میں اللہ کی رضا اور آخرت کی سختیوں سے
نجات کا وعدہ ہے ۔
محمد یعقوب عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃُالمدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اسلام ایک
ایسا دین ہے جو ہمیں اپنے اسلامی بھائیوں کے ساتھ
مل جل کر رہنے اور دوسروں کی حق تلفی سے اجتناب کا حکم دیتا ہے بلکہ معاشرے میں بھائی چارہ قائم رکھنے کےلئے
بھلائی اور دوسروں کے ساتھ نصرت کا حکم دیتا ہے انہی نصرت کے کاموں میں سے ایک کام
اپنے محتاج بھائی کو قرض دے کر مدد کرنا ہے ۔
قرض دینے
کے بعد اب طلب کےوقت اگر وہ حالت عسر میں ہے تو اس پر شفقت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ
کے اس فرمان پر عمل کیا جائے ،قال الله تعالى فی کلام المجید:
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز
الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل
چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔
تفسیر صراط الجنان:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں
سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور
ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا
تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں
لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن،
البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۰، ۱ / ۲۱۸)
قرضدار کو
مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل: اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا
نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم
کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت
فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ ا س کے5فضائل درجِ ذیل ہیں :
(1) حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا
ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب
المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳))
(2)حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست
کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں
رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی
انظار المعسرالخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)
(3)حضرت
جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا
کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع،
باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )
(4) حضرت
حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی
روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا
کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں
سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت
مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا
۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم
اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، ۹ / ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳،
مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰))
(5) اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے
اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا
حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،
باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰))
مجتبیٰ بشیر خانانی (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اسلام ایک
ایسا دینِ رحمت ہے جو انسان کے دلوں میں ہمدردی، عدل و انصاف اور خیرخواہی کے
جذبات کو پروان چڑھاتا ہے ۔ یہ دین صرف
عبادات تک محدود نہیں بلکہ مالی اور معاشرتی معاملات میں بھی عدل و نرمی کی تعلیم
دیتا ہے ۔
رسولِ اکرم
ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ رحم فرماتا ہے اُس شخص پر جو خریدتے وقت، بیچتے وقت، اور
قرض وصول کرتے وقت نرمی اختیار کرے ۔ ( صحیح بخاری، کتاب البیوع، حدیث: 2076)
یہ تعلیم
بتاتی ہے کہ لین دین اور مالی معاملات بھی عبادت کا حصہ بن سکتے ہیں اگر ان میں
عدل، انصاف اور نرمی شامل ہو ۔
اللہ تعالیٰ
کا ارشادِ مبارک ہے:وَ اِنْ
كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ
لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو
اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر
جانو ۔ (سورۃ البقرہ، آیت 280)
یہ آیت قرض
خواہ کو اخلاقی ذمہ داری یاد دلاتی ہے کہ مقروض پر سختی نہ کرے بلکہ اسے سہولت اور
وقت دے ۔
نبی کریم ﷺ
نے فرمایا: جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اس کے قرض میں رعایت کرے، اللہ تعالیٰ
اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سایہ میں جگہ دے گا ۔ (جامع ترمذی، کتاب البیوع، رقم: 1306)
ایک اور روایت
میں ہے: جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کے قرض کو معاف کر دیا، اللہ تعالیٰ
اسے جہنم سے آزاد کر دے گا ۔ (مسند احمد،
حدیث: 21996)
یہ سب واضح
کرتے ہیں کہ مالی تنگی کے شکار شخص سے نرمی کرنا عبادت، صدقہ اور جہنم سے نجات کا
ذریعہ ہے ۔
رسولِ اکرم
ﷺ کی سیرتِ طیبہ رحم، درگزر اور آسانی سے بھری ہوئی ہے ۔ مثلا"ایک شخص قرض دیا
کرتا تھا، جب وہ اپنے نوکروں کو قرض وصول کرنے کے لیے بھیجتا تو کہتا: اگر کوئی
تنگ دست ہو تو اسے چھوڑ دو، شاید اللہ بھی ہمیں معاف کر دے" ۔ چنانچہ اللہ
تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے بھی اسے معاف کر دیا ۔ (صحیح بخاری، کتاب المساقاة، حدیث: 2078؛ صحیح مسلم، کتاب المساقاة، حدیث:
1562)
اسی طرح
رسول ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے مسلمان بھائی کو قرض دیا، اس کے لیے ہر دن صدقہ لکھا
جاتا ہے، اور اگر اس نے ادائیگی کی مہلت بڑھا دی تو ہر دن دو صدقے کا ثواب لکھا
جاتا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الصدقات،
حدیث: 2430)
اور فرمایا:
جس نے تنگ دست پر آسانی کی، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس پر آسانی فرمائے گا
۔ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث:
2699)
یہ احادیث
بتاتی ہیں کہ مقروض پر نرمی اللہ کی رحمت اور بخشش کا ذریعہ ہے، اور یہ عمل دنیا و
آخرت دونوں میں کامیابی کا سبب بنتا ہے ۔
اسلام کی
تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ اگر کوئی شخص مالی تنگی میں ہو تو اس کے ساتھ نرمی،
سہولت اور ہمدردی سے پیش آنا چاہیے ۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندے
پر آسانی فرمائے جو لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرے ۔ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2697)
لہٰذا ہمیں
چاہیے کہ ہم ان تعلیمات پر عمل کریں تاکہ ہمارا معاشرہ عدل، محبت اور رحمت کا
گہوارہ بن جائے ۔
محمد عبد اللہ (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اللہ تعالیٰ
کا بے پایاں احسان ہے کہ اس نے ہمیں دینِ اسلام جیسے معتدل اور متوازن دین میں پیدا
فرمایا ایسا دین جو ہر قسم کی افراط و تفریط سے پاک، انسان کی فطرت کے عین مطابق
اور زندگی کے ہر پہلو کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے ۔ اسلام نے ہمیں نہ صرف عبادات کے
اصول سکھائے بلکہ معاشرتی، معاملات اور مالی لین دین کے آداب بھی سکھائے ہیں ۔ جب
کوئی شخص قرض کے بوجھ تلے دب جائے تو اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ایسے مقروض کے
ساتھ سختی نہیں بلکہ نرمی، ہمدردی اور آسانی کا معاملہ کیا جائے ۔
قرآن کریم
میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے
مہلت دو آسانی تک ۔ (سورۃ البقرۃ: 280)
یہ آیت
مبارکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر کوئی شخص واقعی مالی تنگی میں مبتلا ہے تو اسے وقت دیا
جائے، دباؤ نہ ڈالا جائے، بلکہ ممکن ہو تو معافی اور رعایت سے کام لیا جائے ۔ اسی
نرمی کی تعلیم ہمیں نبیِ آخرالزماں ﷺ کی سیرتِ طیبہ سے بھی ملتی ہے ۔
حضرت ابو
قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کسی
مقروض کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیاتو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اپنے
عرش کے سایہ میں جگہ عطا فرمائے گا ۔ (مسند احمد: جلد دوم، صفحہ 359)
اسی طرح
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: جس شخص نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا
اس کا قرض معاف کر دیا،اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی تپش سے محفوظ رکھے گا ۔ (الدر
المنثور: جلد 1، صفحہ 389)
ان احادیث
سے معلوم ہوتا ہے کہ قرضدار کے ساتھ نرمی کرنا محض اخلاقی خوبی نہیں، بلکہ ایمان
داروں کے لیے جنت کا ذریعہ اور جہنم کی آگ سے حفاظت کا سبب ہے ۔
نبی پاک صلی
اللّہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق اسلام رحم، عدل اور ہمدردی جیسی خوبصورت صفات
پر قائم ہے ۔ جو شخص تنگ دست مقروض کے ساتھ نرمی اور مہلت کا
برتاؤ کرتا ہے، دراصل وہ اللہ کی رحمت کو دعوت دیتا ہے ۔ ایسا شخص دنیا میں سکون
پاتا ہے اور آخرت میں عرشِ الٰہی کے سایہ میں جگہ پاتا ہے ۔
پس ہمیں
چاہیے کہ جب بھی کوئی شخص تنگی میں ہو، تو اس کے ساتھ نبی پاک صلی اللّہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ کے مطابق آسانی، فراخ دلی
اور خیرخواہی کا سلوک کریں، تاکہ ہم بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہو جائیں جنہیں
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا ۔
عبد الوحید (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ
کراچی، پاکستان)
معاشره
انسانی ضرورتوں پر قائم ہے، اور بسا اوقات انسان مالی تنگی یا حاجت کا شکار ہو
جاتا ہے ۔ ایسے مواقع پر قرض لینا مجبوری
بن جاتا ہے، اور قرض دینا ایک اخلاقی و دینی فریضہ بن جاتا ہے ۔ لیکن جب قرض دار تنگ دست ہو، تو اس پر سختی
کرنا ظلم ہے ۔ شریعت اسلامیہ نے اس معاملے
کو بہت اہمیت دی ہے اور تنگ دست کو مہلت دینے نرمی برتنے حتی کہ معاف کرنے پر دنیا
و آخرت کی عظیم فضیلتیں بیان فرمائی ہیں ۔
یہی وجہ ہے
کہ قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں نہ صرف قرض دینے کی ترغیب دی گئی بلکہ تنگ دست
قرض دار کے ساتھ حسن سلوک کو ایمان کی علامت اور جنت کے سائے کا سبب قرار دیا گیا
ہے ۔
اللہ تعالیٰ
قرآن پاک میں قرض دار کو مہلت دینے کے
بارے میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمۂ کنز العرفان:اور اگر مقروض تنگدست ہو تو
اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر
تم جان لو ۔ (البقرۃ،280)
تفسیر :وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر
مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا
قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر
آپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات
جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں
تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۰، ۱ / ۲۱۸)
قرضدار کو
مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل: اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا
نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم
کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت
فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ ا س کے5فضائل درجِ ذیل ہیں :
(1)حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص یہ چاہتا
ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب
المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳))
(2) حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے تنگ دست کو
مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں
رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی
انظار المعسر الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)
(3) حضرت
جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا
کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع،
باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )
(4) حضرت
حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو
مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے
علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے
کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف
یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا
تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر
کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ
نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان،
۹
/ ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰))
(5) اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے
اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا: میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار
ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،
باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰))
امامِ اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور مجوسی قرضدار: امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ
تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو حنیفہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی وصولی کے لئے ا س مجوسی کے
گھر کی طرف گئے ۔ جب اس کے
گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتے
پر نجاست لگ گئی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے کو جھاڑا تو آپ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ا س عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ
گئی ۔ یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور
فرمایا کہ اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہو
رہی ہے اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی
پریشانی کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک
لونڈی باہر نکلی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: آپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ
دروازے پر موجود ہے ۔ وہ مجوسی آپ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا اور ا س نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنے قرض کا
مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی ۔ امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیوار پر نجاست
لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر)
اس مجوسی نے عرض کی :میں (دیوارکی صفائی کرنے کی) ابتداء آپنے آپ کو پاک کرنے سے
کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا ۔ (تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک
یوم الدین، ۱ / ۲۰۴)
قرض کی
ادائیگی کے لئے دعا: حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے
کہ آپ کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور عرض کی میں اپنی کتابت (کا مال) اداء کرنے سے
عاجز آگیا ہوں ، میری کچھ مدد فرمائیے ۔ آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ
الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ
وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے (اور ان کلمات کی برکت یہ ہے کہ ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر
بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا دے ۔ تم یہ پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ
بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ‘‘ یعنی اے
اللہ ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے تو کافی ہوجا، اورمجھے اپنی مہربانی
سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے ۔ (ترمذی، احادیث شتی، ۱۱۰- باب، ۵ / ۳۲۹، الحدیث: ۳۵۷۴)
سید دلدار حسین (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اللہ تعالی نے جس انسان کو مال و دولت سے نوازا
تو اس سے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ اس کو اللہ تعالی نے دینے والا بنایا
ہے کسی سے مال لینے کا محتاج نہیں بنایا
اگر اس شخص کو اللہ تعالی نے جو کچھ عطا کیا اس پر اگر شکر ادا کرے گا تو اللہ تعالی
اس کے مال و عزت میں مزید اضافہ فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالی کو شکر کرنے والی
زبان اور صبر کرنے والا دل بہت زیادہ
محبوب یعنی پسند ہے اس شخص کو اللہ تعالی نے مال دیا اور اس نے کسی غریب کی مدد کی
قرض کے ذریعے لیکن اگر جس کو اس نے قرض دیا اس شخص نے اس کو وقت پر قرض نہیں لوٹایا
جس وقت پر اس کو قرض وآپس لوٹانا تھا لیکن اگر اس پر وہ صبر کرے اور مقروض یعنی
قرضدار پر نرمی و صبر کرنے کو ترجیح دیتا ہے ایسے شخص کے لیے نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالی اس شخص کو قیامت کے دن تکلیفوں سے
نجات دے وہ کسی مفلس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے ۔ ( صراط الجنان صفحہ
نمبر 417) (مسلم کتاب الذکر والدعاباب فصل الاجتماع علی تلاوت القرآن ص 1447 حدیث
2699)
چنانچہ اس زمن میں دو فرامین مصطفی ملاحظہ کیجیے:
(1) نبی کریم
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو دنیا میں تنگ دست کو آسانی
فراہم کرے گا اللہ عزوجل دنیا اور آخرت میں اس کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا
۔ ( ریاض الصالحین،ج 3 ص 332)
(2) جس نے
تنگ دست کو مہلت دی یا اس کے قرض میں کمی کی اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے اپنا عرش
کے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ( ریاض
الصالحین،ج 3 ص 332)
دیکھیے نبی
کریم ﷺ نے کس طرح ہماری تربیت فرمائی اگر کوئی شخص کسی تنگدست کو قرض دے اور وہ
اپنی تنگدستی کی وجہ سے واپس نہ کر سکے تو ایسے شخص کو معاف کر دینا بہتر ہے
۔ کیونکہ علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ
تعالی علیہ فرماتے ہیں مسلمان مسلمان کا بھائی اس لیے ہے کہ ان دونوں کو ایک دین
نے جمع کر دیا ہے اور دینی بھائی ہونا تو حقیقی بھائی ہونے سے بھی افضل ہے کیونکہ حقیقی بھائی ہونا دنیاوی
پھل ہے جبکہ دینی بھائی ہونا اخروی پھل ہے ۔ ( ریاض الصالحین،ج 3 ص 332)
اگر تم ان تمام باتوں پر عمل کرو گے اور مقروض
سے قرض لینے میں نرمی کرو گے تو دنیا میں
لوگ تمہاری تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ امین بجاہ نبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ
وسلم
علی احسان (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ
کراچی، پاکستان)
اسلام ایک
ایسا دین ہے جو نہ صرف عبادات بلکہ معاملات میں عدل وانصاف نرمی اور رحم دلی کی
تعلیم دیتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت طیبہ میں ہمیں یہ سبق
ملتا ہے کہ انسان کے ساتھ بھلائی ،نرمی، اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں
بہت پسندیدہ عمل ہے خاص طور پر مالی معاملات میں نرمی کرنا جیسے قرض دینے اوراُسکے
مطالبہ کرنے میں نرمی کرناقرآن پاک میں بھی قرضدار پر نرمی کے حوالے سے فرمایا گیا
ہے :
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز
العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ
کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ:280)
تفسیر:اس
آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا
کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔
آئیں اس
بارے میں چند فرامینِ مصطفیٰ ملاحظہ کرتے ہیں:
(1) حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک شخص کا
انتقال ہوا قبر میں اس سے سوال ہوا تمہارے پاس کوئی نیکی ہے اس نے کہا میں لوگوں
سے خرید و فروخت کرتا تھا اور جب کسی پر میرا قرض ہوتا تو میں مالداروں کو مہلت دیا
کرتا تھا اور تنگ دستوں کے معاف کردیا کرتا تھا ِاس پر اُس کی بخشش ہوگئی ۔ (صحیح
مسلم ج1:ص843:حدیث1560)
(2)حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست
کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں
رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا :(ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی
انظار المعسرالخ، 3 / 52، الحدیث: 1310)
(3)حضرت
ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا :جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالی اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے
نجات دے وہ کسی مفلس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے :(صحیح مسلم ج 1:ص845:حدیث1523)
(4)اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے
اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا
حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،
باب فضل انظار المعسر، ص844 ، الحدیث: 29 (1560)
بعض لوگوں
کو دیکھا گیا ہے کہ وہ قرضدار پر نرمی کے بجائے سختی کرتے ہیں اور طرح طرح کی شرط
لگاتے ہیں ۔ مقروض کو اپنا غلام بناتے ہیں
اُس کو مجبور کرکے طرح طرح کے کام لیتے ہیں انہیں بےعزت کرتے ہیں اگر مقروض ادائیگی
میں تأخیر کرے تو شور مچاتے ہیں اور لوگوں کو جمع کرتے ہیں ہمیں چائیے اگر کوئی
قرض واپس کرنے سے عاجز ہو تو اسے مہلت دیں اس کی عزت نفس کا خیال رکھیں اور اسے
شرمندہ نہ کریں یاد رہے کہ جو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے اللہ تعالی اس کے
لیے دنیا و آخرت میں آسانیاں پیدا فرماتا ہے ۔ لہٰذا ہمیں چائیے کہ نبی کریم ﷺ کی
تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے مقروض پر نرمی اختیار کریں بلکہ اگر ممکن ہو تو اس کا
قرض معاف کرکے اپنی آخرت سنواریں ۔
محمد بلال
رضا (درجۂ سادسہ جامعۃ المدینہ گلزار حبیب سبزازار لاہور، پاکستان)
حضور نبی
اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی تمام انسانیت کے لیے مشعل راہ اور ہدایت کا
سرچشمہ ہے حضور علیہ السلام کی زندگی کا ایک اہم پہلو لوگوں پر نرمی کرنا بھی ہے یہ
نرمی ہر قسم کے افراد کیساتھ ہوا کرتی تھی انہی افراد میں مقروض بھی ہیں کہ جن کیساتھ
نرمی کے فضائل احادیث میں موجود ہیں ۔
(1)روایت
ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے تم سے اگلے لوگوں میں ایک شخص
تھا جس کے پاس اس کی روح قبض کرنے فرشتہ آیا تو اس سے کہا گیا کہ کیا تو نے کوئی نیکی
کی ہے وہ بولا میں نہیں جانتا اس سے کہا گیا غور تو کر بولا اس کے سوا کچھ اور نہیں جانتا کہ میں دنیا
میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا
اور غریب کو معافی چنانچہ اللہ نے اسے جنت
میں داخل فرمادیا ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:2791 )
اسی طرح روایت
ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اللہ اس شخص پر رحمتیں کرے جو نرم ہو جب بیچے اور خریدے اور جب تقاضا
کرے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:2790 )
مقروض پر
نرمی کرنے والا بخشا گیا:رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:ایک
شخص نے کبھی کوئی نیک کام نہ کیا تھا، البتہ! وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا اور اپنے
نوکروں سے کہا کرتا:’’ مقروض کے لئے جتنا قرضہ ادا کرنا آسان ہو اتنا لے لینا اور
جتنا ادا کرنا مشکل ہو اتنا چھوڑ دینا، اے کاش! ہمارا ربّ بھی ہم سے درگزر فرمائے
۔ “ جب اس کا اِنتقال ہوگیا تو اللہ پاک نے دریافت فرمایا:کیا تو نے کبھی کوئی نیکی
بھی کی؟ اس نے عرض کی:نہیں، البتہ! میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور جب آپنے
خادِم کو قرض کی وصولی کے لئے بھیجتا تو اسے کہا کرتا تھا کہ جتنا آسان ہو اتنا لے
لینا جتنا مشکل ہو اتنا چھوڑ دینا، ہو سکتا ہے کہ اللہ پاک ہم سے بھی درگزر فرمائے
۔ “ تو اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:” میں نے تمہیں بخش دیا ۔ (ماہنامہ فیضان مدینہ
نومبر 2024 صفحہ نمبر 8 )اللہ پاک ہمیں مقروضوں کے ساتھ نرمی کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین
جس طرح
انسان پر اللہ تعالی کے حقوق لازم ہے اسی طرح انسان پر بندوں کے حقوق بھی لازم ہیں
اللہ تعالی پنے حقوق تو معاف کر سکتا ہے لیکن بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں
کر سکتا جب تک بندہ خود نہ معاف کر دے حقوق العباد کے بارے میں احادیث مبارکہ میں
کافی فضیلت آئی ہے حقوق العباد میں ایک یہ ہے کہ انسان کا اپنے مسلمان بھائی کی
مشکل میں مدد کرنا ان مدد میں سے ایک مدد قرض دینا بھی پے قرض دینا صدقہ بھی ایک
ہے اور اس پر نرمی اور مہلت کرنے کے بارے میں احادیث میں کافی فضیلتیں آئی ہیں آج
ہم قرض دینے اور اس پر نرمی کرنے اور مہلت دینے کے متعلق احادیث مبارکہ پڑھتے ہیں
۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ
، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ
عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ
رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
قَالَ: كَانَ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا رَأَى
مُعْسِرًا، قَالَ لِفِتْيَانِهِ: تَجَاوَزُوا عَنْهُ، لَعَلَّ
اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُ،
ترجمہ:ہم
سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، ان سے محمد
بن ولید زبیدی نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے، انہوں
نے ابوہریرہ سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے
فرمایا، ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے
نوکروں سے کہہ دیتا کہ اس سے درگزر کر جاؤ ۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے (آخرت میں) درگزر فرمائے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے (اس کے مرنے کے بعد) اس کو بخش دیا ۔ (صحیح بخاری،کتاب: خرید وفروخت
کے بیان،باب: جس نے تنگ دست کو مہلت دی اس کا ثواب،حدیث نمبر: 2078)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا
أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ نُفَيْعٍ أَبِي دَاوُدَ،
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا كَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ
صَدَقَةٌ وَمَنْ أَنْظَرَهُ بَعْدَ حِلِّهِ كَانَ لَهُ مِثْلُهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ
صَدَقَةٌ،
ترجمہ:بریدہ
اسلمی کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کسی تنگ دست کو مہلت دے گا تو اس کو ہر دن
کے حساب سے ایک صدقہ کا ثواب ملے گا، اور جو کسی تنگ دست کو میعاد گزر جانے کے بعد
مہلت دے گا تو اس کو ہر دن کے حساب سے اس کے قرض کے صدقہ کا ثواب ملے گا ۔ (سنن
ابن ماجہ،کتاب: صدقات کا بیان،باب: تنگدست کو مہلت دینا،حدیث نمبر: 2418)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو
مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
مَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ،
ترجمہ:ابوہریرہ
ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی تنگ دست پر آسانی کرے گا، تو اللہ تعالیٰ
اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی فرمائے گا ۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب: صدقات کا
بیان،باب: تنگدست کو مہلت دینا،حدیث نمبر: 2417)
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا
إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق،
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ
قَيْسٍ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُظِلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ فَلْيُنْظِرْ
مُعْسِرًا أَوْ لِيَضَعْ لَهُ،
ترجمہ:صحابی
رسول ابوالیسر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: جو کوئی یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ
اسے اپنے (عرش کے) سائے میں رکھے، تو وہ تنگ دست کو مہلت دے، یا
اس کا قرض معاف کر دے ۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب: صدقات کا بیان،باب:
تنگدست کو مہلت دینا،حدیث نمبر: 2419)
حدیث میں
قرض دینے کے متعلق کافی ساری فضیلتیں آئی ہیں کہ قرض دینا ایک صدقہ بھی ہے قرض
والے پر آسانی پیدا کرنے والے کے لیے اللہ تعالی خود آسانی فرماتا ہے قرضدار پر مہلت دینے والے کو اللہ تعالی اپنے
عرش کے سائے میں رکھے گا ایک حدیث میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ جسے یہ بات پسند ہو
کہ اللہ تعالی اس کی قیامت کے دن مشکلات میں سے کوئی مشکل دو فرمائے تو اسے چاہیے
کہ وہ قرضدار کو مہلت دے یا اس کا قرضہ معاف کر دے ۔ ( رواہ المسلم (10/ 300)
ہمیں بھی چاہیے کہ اگر ہم کسی کو قرضہ دیں تو اس
کے ساتھ درگزر والا معاملہ کرے تاکہ قیامت والے دن اللہ تعالی ہم سے بھی درگزر
والا معاملہ فرمائے اللہ تعالی ہمیں حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ان فرامین
پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ امین
بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
Dawateislami