مجتبیٰ بشیر خانانی (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اسلام ایک
ایسا دینِ رحمت ہے جو انسان کے دلوں میں ہمدردی، عدل و انصاف اور خیرخواہی کے
جذبات کو پروان چڑھاتا ہے ۔ یہ دین صرف
عبادات تک محدود نہیں بلکہ مالی اور معاشرتی معاملات میں بھی عدل و نرمی کی تعلیم
دیتا ہے ۔
رسولِ اکرم
ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ رحم فرماتا ہے اُس شخص پر جو خریدتے وقت، بیچتے وقت، اور
قرض وصول کرتے وقت نرمی اختیار کرے ۔ ( صحیح بخاری، کتاب البیوع، حدیث: 2076)
یہ تعلیم
بتاتی ہے کہ لین دین اور مالی معاملات بھی عبادت کا حصہ بن سکتے ہیں اگر ان میں
عدل، انصاف اور نرمی شامل ہو ۔
اللہ تعالیٰ
کا ارشادِ مبارک ہے:وَ اِنْ
كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ
لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو
اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر
جانو ۔ (سورۃ البقرہ، آیت 280)
یہ آیت قرض
خواہ کو اخلاقی ذمہ داری یاد دلاتی ہے کہ مقروض پر سختی نہ کرے بلکہ اسے سہولت اور
وقت دے ۔
نبی کریم ﷺ
نے فرمایا: جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اس کے قرض میں رعایت کرے، اللہ تعالیٰ
اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سایہ میں جگہ دے گا ۔ (جامع ترمذی، کتاب البیوع، رقم: 1306)
ایک اور روایت
میں ہے: جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کے قرض کو معاف کر دیا، اللہ تعالیٰ
اسے جہنم سے آزاد کر دے گا ۔ (مسند احمد،
حدیث: 21996)
یہ سب واضح
کرتے ہیں کہ مالی تنگی کے شکار شخص سے نرمی کرنا عبادت، صدقہ اور جہنم سے نجات کا
ذریعہ ہے ۔
رسولِ اکرم
ﷺ کی سیرتِ طیبہ رحم، درگزر اور آسانی سے بھری ہوئی ہے ۔ مثلا"ایک شخص قرض دیا
کرتا تھا، جب وہ اپنے نوکروں کو قرض وصول کرنے کے لیے بھیجتا تو کہتا: اگر کوئی
تنگ دست ہو تو اسے چھوڑ دو، شاید اللہ بھی ہمیں معاف کر دے" ۔ چنانچہ اللہ
تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے بھی اسے معاف کر دیا ۔ (صحیح بخاری، کتاب المساقاة، حدیث: 2078؛ صحیح مسلم، کتاب المساقاة، حدیث:
1562)
اسی طرح
رسول ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے مسلمان بھائی کو قرض دیا، اس کے لیے ہر دن صدقہ لکھا
جاتا ہے، اور اگر اس نے ادائیگی کی مہلت بڑھا دی تو ہر دن دو صدقے کا ثواب لکھا
جاتا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الصدقات،
حدیث: 2430)
اور فرمایا:
جس نے تنگ دست پر آسانی کی، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس پر آسانی فرمائے گا
۔ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث:
2699)
یہ احادیث
بتاتی ہیں کہ مقروض پر نرمی اللہ کی رحمت اور بخشش کا ذریعہ ہے، اور یہ عمل دنیا و
آخرت دونوں میں کامیابی کا سبب بنتا ہے ۔
اسلام کی
تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ اگر کوئی شخص مالی تنگی میں ہو تو اس کے ساتھ نرمی،
سہولت اور ہمدردی سے پیش آنا چاہیے ۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندے
پر آسانی فرمائے جو لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرے ۔ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2697)
لہٰذا ہمیں
چاہیے کہ ہم ان تعلیمات پر عمل کریں تاکہ ہمارا معاشرہ عدل، محبت اور رحمت کا
گہوارہ بن جائے ۔
Dawateislami