(1)  قرض كم كرنے کامطالبہ : اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : یارسولَ اللہ ﷺ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد(3 ) حدیث نمبر(250)

(2)ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :ایک شخص لوگو ں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوکر کو اسے اس نے کہہ رکھا تھا کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس تقاضا کو جائے توا سے معاف کردے ہوسکتا ہے کہ اللہ ہم کو معافی دے دے فرمایا کہ وہ اللہ سے ملا تو رب نے اس سے در گزر فرمائی ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد(4) حدیث نمبر(2776)

(3) تنگدست پر آسانی کرنا:رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو کسی تنگدست پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ جلد نمبر ( 3 ) صفحہ نمبر( 147) حدیث نمبر (2417 )

(4) آدھا قرض معاف کردیا :حضرت کعب ابن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مسجد میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا تقاضا کیا زمانہ نبوی ﷺ میں تو ان کی آوازیں کچھ اونچی ہوگئیں حتی کہ رسولاللہ ﷺ نے اپنے گھر سے سن لیا تو رسول اللہ ﷺ ان کی طرف تشریف لائے حتی کہ اپنے حجرہ شریف کا پردہ اٹھایا اور حضرت کعب ابن مالک کو پکارا فرمایا اے کعب عرض کیا حضور ( ﷺ ) حاضر ہوں آپ نے اپنے ہاتھ شریف سے اشارہ کیا کہ آدھا قرض معاف کردو،حضرت کعب نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں نے کردیا فرمایا اُٹھو اب ادا کردو ۔

(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد(4) حدیث نمبر(2908)