حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی تمام انسانیت کے لیے مشعل راہ اور ہدایت کا سرچشمہ ہے حضور علیہ السلام کی زندگی کا ایک اہم پہلو لوگوں پر نرمی کرنا بھی ہے یہ نرمی ہر قسم کے افراد کیساتھ ہوا کرتی تھی انہی افراد میں مقروض بھی ہیں کہ جن کیساتھ نرمی کے فضائل احادیث میں موجود ہیں ۔

(1)روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے تم سے اگلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قبض کرنے فرشتہ آیا تو اس سے کہا گیا کہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے وہ بولا میں نہیں جانتا اس سے کہا گیا غور تو کر بولا اس کے سوا کچھ اور نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو معافی چنانچہ اللہ نے اسے جنت میں داخل فرمادیا ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:2791 )

اسی طرح روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اللہ اس شخص پر رحمتیں کرے جو نرم ہو جب بیچے اور خریدے اور جب تقاضا کرے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:2790 )

مقروض پر نرمی کرنے والا بخشا گیا:رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:ایک شخص نے کبھی کوئی نیک کام نہ کیا تھا، البتہ! وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا اور اپنے نوکروں سے کہا کرتا:’’ مقروض کے لئے جتنا قرضہ ادا کرنا آسان ہو اتنا لے لینا اور جتنا ادا کرنا مشکل ہو اتنا چھوڑ دینا، اے کاش! ہمارا ربّ بھی ہم سے درگزر فرمائے ۔ “ جب اس کا اِنتقال ہوگیا تو اللہ پاک نے دریافت فرمایا:کیا تو نے کبھی کوئی نیکی بھی کی؟ اس نے عرض کی:نہیں، البتہ! میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور جب آپنے خادِم کو قرض کی وصولی کے لئے بھیجتا تو اسے کہا کرتا تھا کہ جتنا آسان ہو اتنا لے لینا جتنا مشکل ہو اتنا چھوڑ دینا، ہو سکتا ہے کہ اللہ پاک ہم سے بھی درگزر فرمائے ۔ “ تو اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:” میں نے تمہیں بخش دیا ۔ (ماہنامہ فیضان مدینہ نومبر 2024 صفحہ نمبر 8 )اللہ پاک ہمیں مقروضوں کے ساتھ نرمی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین