اللہ تعالی نے جس انسان کو مال و دولت سے نوازا تو اس سے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ اس کو اللہ تعالی نے دینے والا بنایا ہے کسی سے مال لینے کا محتاج نہیں بنایا اگر اس شخص کو اللہ تعالی نے جو کچھ عطا کیا اس پر اگر شکر ادا کرے گا تو اللہ تعالی اس کے مال و عزت میں مزید اضافہ فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالی کو شکر کرنے والی زبان اور صبر کرنے والا دل بہت زیادہ محبوب یعنی پسند ہے اس شخص کو اللہ تعالی نے مال دیا اور اس نے کسی غریب کی مدد کی قرض کے ذریعے لیکن اگر جس کو اس نے قرض دیا اس شخص نے اس کو وقت پر قرض نہیں لوٹایا جس وقت پر اس کو قرض وآپس لوٹانا تھا لیکن اگر اس پر وہ صبر کرے اور مقروض یعنی قرضدار پر نرمی و صبر کرنے کو ترجیح دیتا ہے ایسے شخص کے لیے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالی اس شخص کو قیامت کے دن تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مفلس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے ۔ ( صراط الجنان صفحہ نمبر 417) (مسلم کتاب الذکر والدعاباب فصل الاجتماع علی تلاوت القرآن ص 1447 حدیث 2699)

چنانچہ اس زمن میں دو فرامین مصطفی ملاحظہ کیجیے:

(1) نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو دنیا میں تنگ دست کو آسانی فراہم کرے گا اللہ عزوجل دنیا اور آخرت میں اس کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا ۔ ( ریاض الصالحین،ج 3 ص 332)

(2) جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کے قرض میں کمی کی اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے اپنا عرش کے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ( ریاض الصالحین،ج 3 ص 332)

دیکھیے نبی کریم ﷺ نے کس طرح ہماری تربیت فرمائی اگر کوئی شخص کسی تنگدست کو قرض دے اور وہ اپنی تنگدستی کی وجہ سے واپس نہ کر سکے تو ایسے شخص کو معاف کر دینا بہتر ہے ۔ کیونکہ علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں مسلمان مسلمان کا بھائی اس لیے ہے کہ ان دونوں کو ایک دین نے جمع کر دیا ہے اور دینی بھائی ہونا تو حقیقی بھائی ہونے سے بھی افضل ہے کیونکہ حقیقی بھائی ہونا دنیاوی پھل ہے جبکہ دینی بھائی ہونا اخروی پھل ہے ۔ ( ریاض الصالحین،ج 3 ص 332)

اگر تم ان تمام باتوں پر عمل کرو گے اور مقروض سے قرض لینے میں نرمی کرو گے تو دنیا میں لوگ تمہاری تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ امین بجاہ نبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم